365 دن (حصہ سوم) — Page 193
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 115 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔193 ترک دنیا کی اہمیت : جو شخص دنیا کو رڈ نہیں کر سکتا وہ ہمارے سلسلہ کی طرف نہیں آسکتا۔دیکھو حضرت ابو بکر نے سب سے اول دنیا کو ر ڈ کیا اور آپ کی آخری پوشاک یہی تھی کہ کمبل پہن کر آپ آحاضر ہوئے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب سے اوّل تخت پر جگہ دی وجہ اس کی یہی تھی کہ آپ نے سب سے اول فقر اختیار کیا تھا خدا تعالیٰ کی ذات پاک ہے کہ کسی کا قرضہ اپنے ذمہ نہیں رکھتی۔اوائل میں نقصان ضرور ہوتے ہیں دوستوں یاروں کے تعلقات قطع کرنے پڑتے ہیں لیکن ان سب کا بدلہ آخر کار دیتا ہے۔ایک چوڑھے اور چمار کی خاطر جب ایک کام کیا جاوے اور تکلیف برداشت کی جاوے تو وہ اپنے ذمہ نہیں رکھتا تو پھر خدا کس لیے اپنے ذمہ رکھے وہ آخر کار سب کچھ دیدیتا ہے۔بارہا ہم نے سمجھایا ہے کہ جس شخص کو اور اور اغراض سوائے دین کے ہیں وہ ہمارے سلسلہ میں داخل نہیں ہو سکتا۔دو کشتیوں میں پاؤں رکھ کر پار اترنا مشکل ہے اس لیے جو ہمارے پاس آوے گا وہ مر کر آوے گالیکن خدا اس کی قدر کرے گا اور وہ نہ مرے گا جب تک کہ دنیا میں کامیابی نہ دیکھ لے جو کچھ برباد کر کے آوے گا خدا اسے سب کچھ پھر دے گا۔لیکن ایک دنیا دار قدم نہیں اُٹھا سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ انسان خود ہی غداری کرتا ہے کہ نام تو خدا کی طرف آنے کا کرتا ہے اور اس کی نظر اہل دنیا کی طرف ہوتی ہے۔جو قدر اس سلسلہ میں داخل ہونے کی اس وقت ہے وہ بعد ازاں نہ ہو گی۔مہاجرین وغیرہ کی نسبت قرآن شریف میں کیسے کیسے الفاظ آئے ہیں جیسے رضی اللہ عنہم۔لیکن جو لوگ فتح کے بعد داخل ہوئے کیا اُن کو بھی یہ کہا گیا؟ ہر گز نہیں ان کا نام ناس رکھا گیا۔اور لوگوں سے بڑھ کر کوئی خطاب ان نہ ملا۔خدا کے نزدیک عزتوں اور خطابوں کے یہی وقت ہوتے ہیں کہ جب اس سلسلہ میں داخل ہونے سے برادری، رشتہ دار وغیرہ سب دشمن جان ہو جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ شرک کو ہر گز پسند نہیں کرتا کہ کچھ حصہ اس کا ہو اور کچھ غیر کا بلکہ ایک جگہ فرماتا ہے کہ اگر تم کچھ مجھ کو دینا چاہتے ہو اور کچھ بتوں کو تو سب کا