365 دن (حصہ سوم) — Page 152
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 88 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔152 عبادت کی حقیقت: عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت، کجی کو ڈور کر کے دل کی زمین کو ایسا صاف بنادے، جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔عرب کہتے ہیں مور معبد جیسے سُرمہ کو باریک کر کے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں۔اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر ، پتھر ، ناہمواری نہ رہے اور ایسی صاف ہو کہ گویا روح ہی رُوح ہو۔اس کا نام عبادت ہے۔چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی جاوے، تو اس میں شکل نظر آجاتی ہے اور اگر زمین کی کی جاوے، تو اس میں انواع و اقسام کے پھل پید اہو جاتے ہیں۔پس انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی کبھی اور ناہمواری، کنکر، پتھر نہ رہنے دے، تو اس میں خدا نظر آئے گا۔ووور میں پھر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے درخت اُس میں پیدا ہو کر نشو و نما پائیں گے اور وہ اثمار شیریں و طیب ان میں لگیں گے۔جو اُكُتهَا دَائِم (الرعد :36) کے مصداق ہوں گے۔یادر کھو کہ یہ وہی مقام ہے، جہاں صوفیوں کے سلوک کا خاتمہ ہے۔جب سالک یہاں پہنچتا ہے، تو خدا ہی خدا کا جلوہ دیکھتا ہے۔اس کا دل عرش الہی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر نزول فرماتا ہے۔سلوک کی تمام منزلیں یہاں آکر ختم ہو جاتی ہیں کہ انسان کی حالت تعبد درست ہو ، جس میں رُوحانی باغ لگ جاتے ہیں اور آئینہ کی طرح خدا نظر آتا ہے۔اسی مقام پر پہنچ کر انسان دُنیا میں جنت کا نمونہ پاتا ہے اور یہاں ہی هذا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ وَ أَتُوا بِهِ مُتَشَابِهَا (البقره:26) کہنے کا حظ اور لطف اُٹھاتا ہے۔غرض حالت تعبد کی درستی کا نام عبادت ہے، پھر فرمایا إِنَّنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرُ (ھود : 3) چونکہ یہ تعبد تام کا عظیم الشان کام انسان بدوں کسی اُسوہ حسنہ اور نمونہ کاملہ کے اور کسی قوت قدسی کے کامل اثر کے بغیر نہیں کر سکتا تھا، اس لیے رسول اللہ صلی ا یکم فرماتے ہیں کہ میں اسی خدا کی طرف سے نذیر اور بشیر ہو کر آیا ہوں۔اگر میری اطاعت کرو گے اور مجھے قبول