365 دن (حصہ سوم) — Page 134
134 درس حدیث نمبر 113 حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا: لَا خَيْرَ فِي جُلُوسِ فِي الطَّرْقَاتِ اِلَّا لِمَنْ هَدَى السَّبِيْلِ وَرَدُّ التَّحَيَّةِ وَغَضُّ الْبَصَرِ وَأَعَانَ عَلَى الْحَمُوْلَةِ (مشکوۃ المصابیح کتاب الآداب باب السلام الفصل الثانی جلد 2 جزء 3 صفحہ 166 دار الکتاب العلمیۃ بیروت 2003 ء حدیث 4661) م الله ہمارے نبی صلی الی ایم کی احادیث میں پبلک مقامات کے بارہ میں ذمہ داریوں کی طرف الله سة خاص توجہ دلائی گئی ہے۔مساجد جہاں ہر طرف سے لوگ آتے ہیں، پانی کے گھاٹ جس سے پبلک فائدہ اٹھاتی ہے، راستے اور سڑکیں جن پر مرد، عورتیں اور بچے ہر طرح کے لوگ چلتے ہیں، بازار جہاں خرید و فروخت ہوتی ہے، ایسی مجالس جہاں سب لوگ آتے ہیں، سایہ دار جگہیں جہاں لوگ بیٹھتے ہیں۔ایسے مقامات میں احساس ذمہ داری کی طرف حضور صلی علی ایم نے خاص توجہ دلائی ہے۔مساجد کے احترام اور صفائی کی طرف احادیث میں بار بار توجہ دلائی گئی ہے، پانی کے گھاٹ کے متعلق فرمایا کہ جو اس کو گندہ کرتا ہے وہ لعن طعن کا مورد بنتا ہے ، مجالس میں کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنایا دو آدمیوں کو جو اکٹھے بیٹھے ہیں الگ الگ کر کے ان کے درمیان بیٹھنے کی کوشش سے منع فرمایا ہے، پانی کے گھاٹ کی طرح سایہ دار مقامات اور راستوں کو گندہ کرنے والے کو بھی اپنے پر بھی لعن طعن کا دعوت دینا قرار دیا ہے۔راستوں کے بارے میں آپ صلی علی یکم کی احادیث میں بار بار ہدایت ہے کہ اِمَاطَةٌ الأذى عَنِ الطَّرِيقِ کہ رستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا نیکی ہے۔(بخاری کتاب الهبة وفضلها باب فضل المنيحة2631) آپ نے فرمایا کہ اگر کوچہ کی چوڑائی میں اختلاف رائے پیدا ہو تو (کم از کم سات گز رکھا جائے۔لم كتاب المساقاة والمزارعة باب قدر الطريق اذا اختلفوا فيه 4139) آپ نے فرمایا کہ ایک شخص چلا جارہا تھا کہ اس نے راستہ میں ایک کانٹے دار شاخ دیکھی اس نے اسے ہٹادیا تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو بخش دیا۔( بخاری کتاب المظالم باب من اخذ الغصن وما يؤذي الناس۔۔۔2471) آج کی روایت میں حضور صلی اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رستوں پر بیٹھنے میں کوئی خیر نہیں ہاں مگر اس شخص کے لئے جو لوگوں کو صحیح راستہ بتائے اور سلام کا جواب دے اور نظر نیچی رکھے اور سامان وغیرہ اٹھانے میں لوگوں کی مدد کرے۔