365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 135 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 135

135 درس حدیث نمبر 114 حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا: اِنْ قَامَتِ السَّاعَةُ وَبِيَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيْلَةٌ فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَن لَّا يَقُوْمَ حَتَّى يَغْرِسَهَا فَلْيَفْعَلْ (مسند احمد بن حنبل مسند انس بن مالک جلد 4 صفحہ 493 عالم الكتب بيروت 1998ء حدیث 13012) ربوہ کا شہر خدا تعالیٰ کی رحمت کا ایک نشان ہے۔ہم جب یہاں آئے تو یہاں صرف ایک کیکر کا درخت تھا اور بالعموم پانی کھاری اور نمکین تھا جس کی وجہ سے درخت نہیں ہوتے تھے۔مگر حضرت مصلح موعودؓ کے عزم نے جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی حالات میں اس شہر کی تعمیر کروائی وہاں اب اس ایک کیکر کے درخت کی جگہ شاید رنگ برنگے لاکھوں درخت، پودے، بیلیں ربوہ میں نظر آتے ہیں۔جن میں سایہ دار درخت بھی ہیں، پھلدار درخت بھی ہیں، پھولدار درخت بھی ہیں جن کو دیکھ کر طبیعت میں بشاشت ہوتی ہے اور ہمارے لئے سب سے بڑی بشارت کی بات یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی ا یکم نے درخت لگانے کے بارہ میں غیر معمولی زور سے ہدایت فرمائی ہے۔چنانچہ یہ حدیث جو حضرت انس بن مالک سے مروی ہے اس میں حضور صلی الی یم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر کسی کے ہاتھ میں درخت کی قلم ہو اور وہ اس کو زمین میں لگا رہا ہو کہ پتہ لگے کہ قیامت آگئی ہے یا عالمگیر تباہی آگئی تب بھی وہ یہ کوشش کرے کہ اگر ہو سکے تو اس درخت کی قلم کو زمین میں لگادے۔درختوں کی پیداوار اور ان کی نگہداشت پر اس سے زیادہ اور کس طرح کہا جاسکتا ہے۔