365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 133 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 133

133 درس حدیث نمبر 112 حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ربیع کی بیوی اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ حضور صلی الیکم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یہ سعد بن الربیع کی بیٹیاں ہیں ان کا والد آپ کے ساتھ احد کے دن شہید ہوا اور ان کے چچانے ان کا مال لے لیا ہے اور ان دونوں کے لئے کچھ نہیں چھوڑا اور ان کا نکاح نہیں ہو سکے گا۔جب تک ان کے پاس مال نہ ہو۔آپ صلی علی کرم نے فرمایا اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائے گا پھر ورثہ کے بارہ میں آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی علیم نے ان دونوں کے چا کو پیغام بھیجا کہ ابن سعد کی دونوں بیٹیوں کو دو تہائی ادا کرو اور ان دونوں کی ماں کو 8 / 1 ادا کرو اور جو بچ جائے وہ تمہارا ہے۔وو ( ترمذی کتاب الفرائض باب ماجاء في ميراث البنات 2092) حضور صلی ا یکم نے قرآنی ارشاد کے نازل ہوتے ہی کہ باپ کے فوت ہونے پر بیوی اور بیٹی کا ترکہ میں حصہ مقرر ہے فوراً اس کی تعمیل کرائی اور بیوی، بیٹیوں کو ان کا حصہ دلوایا اور یہ حکم واضح طور پر قرآن مجید میں موجود ہے۔لیکن اس بات کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ قرآن وحدیث کے واضح حکم کے ہوتے ہوئے اب بھی بعض ایسے خاندان ہیں جو عورتوں کا شرعی حصہ ان کو دینے کو تیار نہیں ہوتے۔اور ایک لمبے عرصہ تک عورتوں کو ان کے شرعی حق سے محروم کیا جاتا رہا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے اس بارہ میں ایک بڑی سبق آموز بات فرمائی ہے، فرماتے ہیں:۔” چنانچہ اس کا نتیجہ دیکھ لو کہ جب سے ان لوگوں نے لڑکیوں کا ورثہ دینا چھوڑا ہے ان کی زمینیں ہندؤوں کی ہو گئی ہیں۔جو ایک وقت سو گھماؤں زمین کے مالک تھے اب دو(2) بیگھہ کے بھی نہیں رہے۔“ حقائق الفرقان جلد اوّل صفحه 300 مطبوعہ ربوہ) ایک دفعہ انگریزوں کی حکومت کے زمانہ میں حکومت کی طرف سے پوچھا گیا تھا کہ مسلمان رواج کے مطابق ورثہ کی تقسیم چاہتے ہیں یا شریعت کے مطابق۔تو صرف قادیان سے آواز اٹھی تھی کہ شریعت کے مطابق ورثہ کی تقسیم ہو۔باقی قوم بالعموم رواج کے مطابق پر راضی تھی۔