365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 126 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 126

126 درس حدیث نمبر 106 حضرت ابوبرزہ بیان کرتے ہیں کہ اَنَّ رَسُولَ اللهِ يا الله كَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا ( بخاری کتاب مواقيت الصلوۃ باب مايكره من النوم قبل العشاء568) شاید مغرب کے تمدن کی مشرقی ممالک پر یلغار کا اثر ہے یا کوئی اور وجہ ہے بہر حال آج کے زمانہ میں جو عادات ہمارے معاشرہ میں رائج ہو رہی ہیں ان میں سے ایک عادت شروع رات میں دیر تک بے کار، غیر ضروری باتوں میں وقت ضائع کرنا ہے۔اس عادت کا مضر اثر ہمارے دین و اخلاق پر بھی پڑتا ہے۔بے کار باتوں میں انسان نامناسب باتوں اور غیبت کی طرف مائل ہو جاتا ہے پھر دیر تک جاگنا انسان کو تہجد کی نماز کی ادائیگی اور فجر کی باجماعت نماز سے محروم کرتا ہے۔صحت کے نقطہ نظر سے شاید بے کار جاگنا خصوصاً شروع رات کی بیداری بیماریوں کا موجب ہے۔زیادہ دیر رات کو جاگنے والے پھر صبح دیر سے اٹھتے ہیں اور اپنی دنیوی معیشت کے کاموں پر بھی تاخیر سے پہنچتے ہیں۔وہ مائیں جو رات گئے باتوں میں مصروف رہتی ہیں صبح اپنے بچوں کو جگا کر تیار کر کے ناشتہ کروا کر ان کو سکول بھیجنے میں یا تو تساہل کرتی ہیں یا بچوں سے بد مزاجی سے پیش آتی ہیں۔ہمارے نبی صلی الم کی تعلیم اور عملی نمونہ زندگی کی ہر شاخ میں برکت کا باعث ہے۔حضرت ابوبرزہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی علیہ کم عشاء کی نماز کے بعد باتیں کرنے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔