365 دن (حصہ سوم) — Page 127
127 درس حدیث نمبر 107 حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں: مَا ضَرَبَ رَسُوْلُ اللَّهِ اللهِ شَيْئًا وَلَا امْرَأَةٌ وَلَا خَادِمًا قط بیده مسلم کتاب الفضائل باب مباعد تسيها الله للآثام۔۔۔۔۔۔6050) آج کی دنیا میں عموماً اور بعض ممالک کے باشندوں میں یہ مرض کثرت سے ہیں اور آئے دن ہم اس کے بداثرات اور نتائج خبروں میں سنتے رہتے ہیں کہ ذرا سی ناراضگی پر کسی معمولی سی غصہ کی بات پر بچوں کی کھیل میں آپس کی لڑائی پر محلے والے ایک دوسرے سے بگڑ کر ہاتھا پائی اور مار کٹائی پر اتر آتے ہیں اور پھر یہ لڑائی جھگڑ ا حدود سے نکل جاتا ہے اور بچوں کی گیند وغیرہ پر چھوٹی سی لڑائی بڑوں کے قتل و خون پر منتج ہوتی ہے جس کا نتیجہ لمبے مقدمات، سالہا سال کی قید یا پھانسی ہوتا ہے۔اس قسم کے جھگڑوں کا حضرت میر محمد اسماعیل صاحب اپنی کتاب ” آپ بیتی“ میں ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔’اٹک کے ضلع کا ایک واقعہ سناتا ہوں ایک شخص کی گائیں کئی روز دوسرے زمیندار کے کھیت میں دیکھی گئیں ایک دن وہ دونوں اپنے مویشیوں کو شارع عام پر چرارہے تھے تو ایک نے دوسرے کو کہا کہ آئندہ تیر ا مویشی ہمارے کھیت کی طرف نہ آئے ورنہ اچھا نہ ہو گا“ دوسرے نے کہا تو کیا کرلے گا؟ ذرا میرے جانور کو ہاتھ لگا کر تو دیکھ ! “ پہلے نے وہیں سڑک پر اپنی لاٹھی سے جس کے سرے پر نیزے کی طرح کا پھل لگا ہوا تھا ایک گول نشان بنادیا یعنی دائرہ کی طرح ایک لکیر کھینچ دی اور کہا ” اچھا یہ میرے کھیت کا نشان ہے تو ذرا اس میں اپنا مویشی داخل تو کر۔“ دوسرے نے جھٹ اپنا ایک پیر بڑھا کر اپنی جوتی اس دائرہ کے اندر رکھ دی اور کہا ”لے میر امویشی تیرے کھیت میں داخل ہو گیا۔“ یہ سنتے ہی پہلے نے اپنا نیزہ اٹھا کر فوراً اس زور سے اپنے مخالف کی چھاتی میں مارا کہ سینہ توڑ کر پار ہو گیا اور وہ شخص وہیں ڈھیر ہو کر رہ گیا۔“ آپ بیتی مصنفہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب صفحہ 190 مطبوعہ لجنہ اماءاللہ ضلع کراچی)