365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 125 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 125

125 درس حدیث نمبر 105 حضرت ابو ذر بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ایم نے فرمایا: مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَالِكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَاِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: وَانْ زَني وَانْ سَرَقَ ( بخاری کتاب اللباس باب الثياب البيض 5827) مذہبی دنیا میں جو بڑی بڑی غلط فہمیاں پیدا ہوتی رہی ہیں ان میں سے ایک بڑی غلط فہمی یہ تھی اور اب بھی ہے کہ اگر ایک شخص نے بہت گناہ کئے ہوں اور بعض ایسے گناہ بھی کئے ہوں جو عرف عام میں بہت بڑے بڑے گناہ سمجھے جاتے ہوں تو ان کے بعد خواہ کتنی ہی تو بہ کرے ان تمام گناہوں کو چھوڑ کر سچے دل سے تو بہ کر کے خدا پر ایمان لائے، خدا کی توحید کو مانے، خدا کے نبیوں، رسولوں پر ایمان لائے، جو احکام بھی خدا تعالیٰ نے دیئے ہیں ان پر عمل کرنے کی اپنی طاقت کے مطابق پوری کوشش کرے وہ جنت میں نہیں جائے گا اور آئندہ زندگی میں اس کی بخشش نہیں ہو گی۔یہ غلط فہمی انسان کی صحیح فطرت کی اتنی مخالف ہے کہ تعجب ہوتا ہے کہ سچے مذہب کے ماننے والوں کو یہ غلط فہمی کیوں پیدا نہیں ہوئی اور تمام اچھی صفات کے مالک خدا کے متعلق تصور پیش کرتی ہے کہ گویا وہ سخت ظالم اور تند خو خدا ہے۔قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کو غفور ، ودود اور رؤف و رحیم کے طور پر پیش کیا ہے اور بار بار اس کی شفقت اور مغفرت کا ذکر فرمایا ہے۔احادیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایک شخص موت کے آثار سے پہلے بھی تو بہ کرتا ہے تو خد اتعالیٰ اسے بخش دیتا ہے۔اور یہی مضمون آج کی حدیث میں ہے حضرت ابو ذر بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی ال یکم نے فرمایا کوئی بندہ بھی ایسا نہیں جو وفات کے وقت صرف اللہ کو ہی اپنا معبود قرار دیتا ہو (یعنی توحید کے تقاضے پورے کرتا ہو) تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں نے کہا اگر چہ وہ زنا کا ارتکاب کر چکا ہو ، چوری کا ارتکاب کر چکا ہو۔نبی کریم صلی یکم نے فرمایا: خواہ وہ زنا کا ارتکاب کر چکا ہو، خواہ وہ چوری کا ارتکاب کر چکا ہو۔