365 دن (حصہ دوم) — Page 78
درس القرآن 78 درس القرآن نمبر 136 الْمُحْسِنِينَ وَ أَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا تُلْقُوا بِاَيِّدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَ اَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ (البقرة:196) قتال کی اجازت اور اس کے بارہ میں ضروری ہدایات اور حکمتوں کا مضمون اس آیت پر ختم ہوتا ہے جس میں قتال کا ایک پہلو بیان ہے اور وہ ہے جنگ کے لئے اخراجات کے مہیا ہونے کا مضمون۔ظاہر ہے کہ جنگ کا ملکی اور قومی معاشیات سے گہرا تعلق ہے اور اس کا اثر تمام معاشرے پر پڑتا ہے اگر جنگ کے موقعہ پر کوئی ملک معاشی طور پر اپنی جنگوں کے لئے سامان مہیا نہیں کر سکتا تو اس کی شکست لازمی ہے اور وہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے اس لئے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔“ اس آیت کا مفہوم سمجھنے میں لوگوں کو بڑی غلط فہمی ہوئی ہے۔انہیں خدا تعالیٰ کی راہ میں جہاں کوئی تکلیف پیش آتی ہے وہ فورا کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والی بات ہے ہم اس میں کس طرح حصہ لے سکتے ہیں۔حالانکہ اس کے ہر گز یہ معنے نہیں کہ جہاں موت کا ڈر ہو وہاں سے مسلمان کو بھاگ جانا چاہیے اور اسے بزدلی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جب دشمن سے لڑائیاں ہو رہی ہوں تو اس وقت اپنے مالوں کو خوب خرچ کر و۔اگر تم اپنے اموال کو روک لو گے تو اپنے ہاتھوں اپنی موت کا سامان پیدا کرو گے۔چنانچہ احادیث میں حضرت ابو ایوب انصاری سے مروی ہے کہ انہوں نے اس وقت جب کہ وہ قسطنطنیہ فتح کرنے کیلئے گئے ہوئے تھے کہا کہ یہ آیت ہم انصار کے بارہ میں نازل ہوئی تھی اور پھر انہوں نے بتایا کہ پہلے تو ہم خدا تعالیٰ کے رستہ میں اپنے اموال خوب خرچ کیا کرتے تھے۔لیکن جب خدا تعالیٰ نے اپنے دین کو تقویت اور عزت دی اور مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوا تو قُلْنَا هَلْ نُقِيمُ فِي أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحْهَا ( ابو داؤد جلد اول کتاب الجہاد) ہم نے کہا کہ اگر اب ہم اپنے مالوں کی حفاظت کریں اور اسے جمع کریں تو یہ اچھا ہو گا۔اس وقت یہ آیت اتری کہ اللہ