365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 37 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 37

درس القرآن 37 درس القرآن نمبر 107 وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ اَمَوَاتٌ بَلْ أَحْيَا وَلكِن لَّا تَشْعُرُونَ (البقرة : 155) اسلام قبول کرنے اور سابقہ مذاہب کو چھوڑنے کے جو نتائج نکلیں گے ان کو ذکر گزشتہ درس سے شروع ہے۔قرآن شریف نے اس آیت میں بجائے یہ کہنے کے کہ تمہیں جانی قربانیاں بھی دینی پڑیں گی۔اس مضمون کو اس طرح بیان کیا ہے کہ تم سے جو اللہ کے راستہ میں قتل ہوں گے ان کو مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں گو تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں۔اس آیت میں براہ راست جانی قربانیوں کا ذکر کرنے کے بجائے بالواسطہ ذکر کیا ہے۔اس رنگ میں کہ زخمی دلوں پر مرہم رکھنے کے مضمون سے ان کا ذکر کیا ہے۔یہاں فرماتا ہے کہ شہید ہونے والے کی زندگی کا تمہیں پتہ نہیں کیونکہ شہید خدا کے حضور زندہ ہیں اور روحانی رزق ان کو مل رہا ہے اور دنیا میں بھی وہ ان معنوں میں زندہ ہیں کہ ایک شہید پر اس کے قائمقام پیدا ہو جاتے ہیں اور شہداء کا مشن کامیابی سے ہمکنار ہو جاتا ہے جس طرح حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں پر آج لوگ لعنت بھیجتے ہیں اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا نام اور کام زندہ ہے۔قربانیوں کے اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے:۔وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ أُولَبِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتَ مِنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (البقرة:156 تا158) اس آیت کا مضمون بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔“اے مومنو! ہم تمہیں اس طرح پر آزماتے رہیں گے کہ کبھی کوئی خوفناک حالت تم پر طاری ہو گی اور کبھی فقر و فاقہ تمہارے شامل حال ہو گا اور کبھی تمہارا مالی نقصان ہو گا اور کبھی جانوں پر آفت آئے گی اور کبھی اپنی محنتوں میں ناکام رہو گے اور حسب المراد نتیجے کوششوں کے نہیں نکلیں گے اور کبھی تمہاری پیاری اولاد مرے گی۔پس ان لوگوں کو خوشخبری ہو کہ