365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 36 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 36

درس القرآن 36 درس القرآن نمبر 106 يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِينَ ( البقرة:154) اس مضمون کو بیان کرنے کے بعد کہ اب خدا کی نظر میں مقبول مذہب اسلام ہے اور سب سے بڑے اور اللہ تعالیٰ کے منظور نظر نبی حضرت محمد مصطفی صلی الی ظلم ہیں اور قبلہ کی تبدیلی کے ذریعہ اس مضمون کو خوب واضح کر دیا تو آج کی آیت سے یہ مضمون شروع ہو رہا ہے کہ اب مسلمانوں کو سارے سابقہ مذاہب کے ماننے والوں، سارے سابقہ انبیاء کو مقدم کرنے والوں اور سارے دوسرے قبلوں کی طرف رخ کرنے والوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان کی طرف سے اعتراض بھی کئے جائیں گے ، دکھ بھی دیئے جائیں گے۔اس لئے اے وہ لو گو جو ایمان لائے ہو، دو چیزوں کے ذریعہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنا ہو گی ایک صبر اور دوسری نماز۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔نماز کیا چیز ہے وہ دعا ہے جو تسبیح تحمید تقدیس اور استغفار اور درود کے ساتھ تضرع سے مانگی جاتی ہے۔" کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 69،68) نماز کا تعلق عبادات سے ہے اور نماز کو عبادات میں بلند مقام حاصل ہے۔عبادات کے علاوہ دوسری چیز جو انسان کو ترقی کے لئے دی گئی ہے وہ اخلاق ہیں۔اخلاق میں صبر کو بلند مقام حاصل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صبر کے متعلق فرماتے ہیں:۔وو “جب کوئی چیز اپنے ہاتھ سے جاتی رہے تو اس چیز کو خدا تعالیٰ کی امانت سمجھ کر کوئی شکایت منہ پر نہ لاوے۔اور یہ کہے کہ خدا کا تھا خدا نے لے لیا اور ہم اُس کی رضا کے ساتھ راضی ہیں۔" اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 362) الغرض اس آیت کا مضمون یہ ہے کہ تم لوگ جو مسلمان ہوئے ہو، تمہیں ہر قسم کی مشکلات اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔اگر ان کے مقابلہ کے لئے تم کوئی کوشش کرنا چاہتے ہو تو اس کے دو طریق ہیں اخلاق میں صبر کو اختیار کرو اور عبادات میں سے نماز کے ذریعہ مدد چاہو۔