365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 151 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 151

درس حدیث 151 درس حدیث نمبر 76 ہمارے نبی صلی یکم فرماتے ہیں: فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ ( بخاری کتاب بدء الخلق باب صفة ابليس و جنوده حدیث نمبر 3289) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی عظیم الشان کتاب “اسلامی اصول کی فلاسفی ” میں اس مضمون کو کھول کر بیان فرمایا ہے کہ اسلام نے اصلاح نفس کے تین مراتب مقرر کئے ہیں۔پہلا مر تبہ آداب کا ہے جس میں انسان کو بیٹھنے اٹھنے ، کھانے پینے ، بات چیت کرنے وغیرہ روز مرہ کی باتوں کے آداب سکھائے گئے ہیں جب انسان اس مرحلہ پر کامیابی سے گزر جائے تو دوسر ا مر حلہ اخلاق کا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اخلاق کے نظام کو ایسے طور پر پیش کیا ہے کہ جس سے انسان ادنیٰ خلق سے اعلیٰ خلق کی طرف ترقی کر سکے۔پھر تیسرا مرحلہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضاء حاصل کرنے کا مرحلہ ہے۔جو حدیث آج پڑھی گئی ہے اس کا تعلق پہلے مرحلہ سے ہے۔اباسی یا جماہی لیتے ہوئے انسان کی حالت کچھ غیر مناسب سی ہو جاتی ہے۔آدمی پورے زور سے منہ کھولتا ہے اور بظاہر نظر یہ فعل تمیز کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔پھر اس میں یہ بھی خطرہ ہو تا ہے کہ کوئی مکھی وغیرہ منہ کے اندر چلی جائے۔دیکھنے والے کو اس سے گھن آتی ہے پھر بالعموم جماہی یا اباسی سستی اور کسل کی علامت ہے۔اس لئے ہمارے نبی صلی ا ہم نے اس فعل کے متعلق فرمایا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ اگر اسے جماہی آئے تو اس کو روکنے کی کوشش کرے جس حد تک وہ کر سکتا ہے۔یہ مختصر سی حدیث ہمیں اس بات کی بھی یاد دہانی کراتی ہے کہ اسلام کی تعلیم صرف ایک چھوٹے سے دائرہ تک محدود نہیں انسانی زندگی کے تمام مراحل پر رہنمائی کرتی ہے۔