365 دن (حصہ دوم) — Page 150
درس حدیث 150 درس حدیث نمبر 75 حضرت ابوہریرۃ بیان کرتے ہیں: اَنَّ رَسُولَ اللهِ يا قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ يَمْشِي فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَنَزَلَ بِثْرًا فَشَرِبَ مِنْهَا ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا هُوَ بِكَلْبٍ يَلْهَتُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ فَقَالَ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا مِثْلُ الَّذِي بَلَغَ بِي فَنَزَلَ بِثْرًا فَمَلَا خُفَّهُ ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيْهِ ثُمَّ رَقِيَ فَسَقَى الْكَلْبَ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ ( بخاری کتاب المساقاة باب فضل سقى الماء حدیث نمبر 2363) حضرت اسماء بنت ابی بکر بیان کرتی ہیں: اَنَّ النَّبِيَّ اللهِ صَلَّى صَلوةَ الْكُسُوْفِ فَقَالَ دَنَتْ مِنِّي النَّارُ۔۔۔۔فَإِذَا امْرَأَةٌ۔۔۔تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ قَالَ مَا شَأْنُ هَذِهِ؟ قَالُوْا حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَث جوعا۔( بخاری کتاب المساقاة باب فضل سقى الماء حدیث نمبر 2364) آج کے درس میں دو احادیث پڑھی گئی ہیں پہلی حدیث میں ایک کتے سے نیک سلوک پر ایک شخص کی مغفرت کا ذکر ہے اور دوسری حدیث میں ایک بلی کو دکھ دینے پر ایک عورت کے آگ میں جانے کا ذکر ہے (اسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَاتُوْبُ إِلَيْهِ) حضرت ابو ہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا اس دوران میں ایک شخص پیدل جار ہا تھا کہ اس کو شدید پیاس لگی۔وہ ایک کنویں میں اترا اور اس نے پانی پیا۔پھر باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی شدت کی وجہ سے گیلی مٹی کھا رہا ہے۔اس نے سوچا اس کتے کو بھی وہی تکلیف ہے جو مجھے ہوئی تھی تو وہ کنویں میں اترا اور اپنا موزہ پانی سے بھرا اور اس کو اپنے منہ میں پکڑا اور چڑھ کر باہر آیا اور تے کو پانی پلایا۔اللہ تعالی نے اس کی قدر دانی فرمائی اور اس شخص کو بخش دیا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی حضرت اسماء بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے سورج گرہن کی نماز پڑھائی۔آپ نے فرمایا کہ دوزخ میرے قریب آئی تو ایک عورت کو ایک بلی پنجے مار کر زخمی کر رہی تھی۔آپ نے پوچھا یہ کیا بات ہے؟ بتایا گیا کہ اس عورت نے اس بلی کو قید کر رکھا تھا یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی۔یہ دونوں احادیث ہمارے انڈو پاکستان کے معاشرے میں بہت قابل توجہ ہیں جہاں یہ نظارہ نظر آتا ہے کہ کوئی شخص ریڑھے کو کھینچنے والے گدھے کو اپنی سوٹی سے مارتا چلا جارہا ہے۔