365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 62 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 62

درس القرآن 62 رس القرآن نمبر 51 وَاذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِةِ إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً قَالُوا اتَتَّخِذُنَا هُزُوا قَالَ أَعُوذُ بِاللهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَهِلِينَ (البقرة: 68) بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور ان کی سرکشیوں اور نافرمانیوں کا بیان کرتے ہوئے قرآن شریف اب ایک ایسے واقعہ کا ذکر کرتا ہے جو نہ صرف بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر کرتا ہے اور بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کا ذکر کرتا ہے بلکہ یہ بھی اشارہ کرتا ہے کہ اگر بنی اسرائیل کو مسلسل تبلیغ اور حکیمانہ رنگ میں نصیحت کا سلسلہ جاری رہے تو بعید نہیں کہ یہ اسلام کی طرف رجوع کریں اور وہ بیان اس طرح ہے کہ بنی اسرائیل چونکہ لمبا عرصہ مصر میں رہے ، مصری نہ صرف ان پر حاکم تھے بلکہ معاشی اور تمدنی طور پر بھی ان پر غالب تھے اس لئے بنی اسرائیل مذ ہبی اور نظریاتی لحاظ سے بھی مصریوں سے متاثر تھے۔مصری گائے کا احترام کرتے تھے اور یہ احترام ہندوستان کے لوگوں کی طرح گائے کا احترام اور محبت ، عقیدت اور پرستش کو چھو رہی تھی اس لئے غیر معمولی قسم کی گائے بنی اسرائیل کی عقیدت کا مرکز بن گئی اور جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ بنی اسرائیل پر یہ احسان کیا کہ ان کو شرک جیسے گناہ کی طرف مائل ہو جانے سے پہلے پہلے ان کو حکم دیا کہ اس گائے کو ذبح کر دیں تو وہ مختلف حیلوں اور بہانوں سے مسلسل یہ کوشش کرتے رہے کہ یہ حکم ٹل جائے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام حیلے بہانے توڑ کر رکھ دیئے اور وہ گائے کو ذبح کرنے پر مجبور کر دیئے گئے۔اس واقعہ کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم ایک گائے ذبح کرو انہوں نے کہا کیا تم ہم سے ہنسی کر رہے ہو ؟ حضرت موسیٰ نے جواب دیا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہو جاؤں انہوں نے کہا اپنے رب سے ہماری خاطر دعا کر کہ وہ ہمارے لئے واضح کر دے کہ وہ کونسی ہے ؟ حضرت موسیٰ نے