365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 61 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 61

درس القرآن 61 درس القرآن نمبر 50 وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَسِبِيْنَ فَجَعَلْنَهَا نَكَالًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ (البقرة:66،67) بنی اسرائیل کی مسلسل نافرمانیوں اور سرکشیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس آیت میں ان کی سبت کی بے حرمتی کا تذکرہ ہے اور اس میں جمعہ کی عبادت سے تساہل کرنے والے مسلمانوں کے لئے بھی بہت اہم سبق ہے۔اللہ تعالیٰ نے تورات میں بنی اسرائیل کے لئے ہفتہ کا ایک دن عبادت اور دنیوی کاموں اور جفاکشی اور محنت سے آرام کا مقرر فرمایا تھا۔اور اس حکم میں سبت جیسی روحانی برکات بھی تھیں اور بہت سے تمدنی اور معاشی فوائد بھی تھے۔خصوصاً جو لوگ کم آمدنی والے دوسروں کے ملازم تھے ان کے لئے بہت سہولت کا سامان تھا اور روحانی برکات کے علاوہ یہ بات بھی مد نظر تھی کہ ایسے لوگ اپنے کام لینے والوں سے بغیر ظاہری کام کے بھی تنخواہ وصول کریں گے۔لیکن بنی اسرائیل نے بحیثیت مجموعی اس بابرکت حکم اور مفید حکم کی شدید نافرمانی کی بعض تو روحانی برکات چھوڑ کر دنیوی کام اور تجارتوں میں پڑ گئے اور عبادت کا پہلو نظر انداز کر دیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ بندروں کی طرح دوسری اقوام کی نقل کرنے لگے۔فرماتا ہے تم خوب جانتے ہو ان لوگوں کے بارہ میں جنہوں نے سبت کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے تجاوز کیا تو ہم نے کہا کہ ذلیل بندر ہو جاؤ اور ہم نے ان کے اس عمل اور اس کی سزا کو اس وقت کے لئے اور بعد کے لئے عبرت بناد یا مگر وہ لوگ جو تقویٰ سے کام لیں اس میں ایک زبر دست نصیحت ہے۔