365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 19 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 19

درس القرآن 19 درس القرآن نمبر 15 وو وَ إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْاَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِن لَّا يَشْعُرُونَ (البقرة:12،13) اور جب ان کو کہا جائے کہ تم زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں ہم فساد کرنے والے نہیں، ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ہم تو مصلح اور ریفار مر ہیں۔ان لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے جو دل سے نہیں مانتے مگر زبان سے دھو کہ دینے کے لئے ، غلط فہمی پیدا کرنے کے لئے زبان سے اقرار کرتے ہیں کہ ہم ایمان لاتے ہیں فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کو جب سمجھایا جاتا ہے کہ ایک بات کو نہ ماننا، ایک عقیدہ دل میں رکھنا مگر لوگوں کو دکھانے کے لئے کہنا کہ ہم مانتے ہیں یہ بہت بڑا فساد ہے۔سارا معاشرہ اس سے خراب ہوتا ہے۔بہت بڑی دھو کہ دہی ہے۔تو ایسے لوگ یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہم ہی تو اصلاح کر رہے ہیں کہ دو قوموں کے درمیان، دو فرقوں کے درمیان ہم لڑائی جھگڑا ختم کر رہے ہیں۔فرماتا ہے دیکھو یہ عجیب بات کرتے ہیں، کیا اس بات کو کہ انسان مانے کچھ اور زبان سے کچھ اور کہے ، کیا یہ خرابی کی بات ہے یا اصلاح کی بات ہے۔کیا یہ فساد ہے یا نیکی ؟ یہی تو یہ لوگ ہیں جو فساد کرنے والے ہیں اور خرابی کرنے والے ہیں۔کبھی نظام کے متعلق غلط باتیں مشہور کرتے ہیں، کبھی مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی زکوۃ کے غلط استعمال کا الزام لگاتے ہیں، کبھی ایسی افواہیں پھیلاتے ہیں جس سے اخلاقی کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں۔مگر پھر بھی اپنے آپ کو اصلاح کرنے والا کہتے ہیں۔حالانکہ حقیقتا فساد کر رہے ہوتے ہیں۔وَلكِنْ لا يَشْعُرُونَ مگر ان کو خود شعور نہیں، اپنے دل کے خیالات کا بھی ان کو صحیح علم نہیں ورنہ ورنہ موٹی بات ہے وہ شخص ہی فساد کرنے والا ہے جو کہتا کچھ اور ہے اور دل میں کچھ اور رکھتا ہے۔