365 دن (حصہ اول) — Page 20
درس القرآن 20 رس القرآن نمبر 16 اللہ تعالی قرآن شریف میں ان لوگوں کا ذکر فرماتے ہوئے جو زبان سے تو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر دل سے مسلمان نہیں اور دل میں اسلام کا صاف انکار کرتے ہیں، فرماتا ہے: وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَمِنُوا كَمَا أَمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا أَمَنَ السُّفَهَاءُ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلكِنْ لاَ يَعْلَمُونَ (البقرة:14) کہ جب ایسے لوگوں کو جو زبان سے اسلام کا اقرار کرتے ہیں مگر دل میں انکار کرتے ہیں، سمجھایا جائے اور کہا جائے کہ دیکھو دوسرے لوگ بھی تو آخر مسلمان ہوئے ہیں جو ان کی زبان کہتی ہے وہی ان کا دل مانتا ہے۔تم بھی ایمان لاؤ جیسے وہ لوگ ایمان لائے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم ویسے ہی ایمان لاویں جیسے بیوقوف لوگ ایمان لائے ہیں۔وہ سچے مسلمانوں کو اس لئے بیوقوف کہتے ہیں کہ وہ ایک فریق میں شامل ہو گئے ہیں یہ لوگ جو زبان سے اقرار اور دل سے انکار کرتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ہم سمجھ دار ہیں، ہم نے دونوں طرف بنا کر رکھی ہوئی ہے اگر مسلمانوں کو فتح ہوئی تو ہم ان کے سامنے تو اسلام کا اقرار کرتے ہیں اس لئے مسلمانوں کی فتح کی صورت میں بھی ہمیں فائدہ ہو گا اور اگر مسلمانوں کے دشمنوں کو فتح ہو گئی تو بھی ہمارا فائدہ ہے کیونکہ ہم دل سے تو اسلام کے دشمن ہیں۔بظاہر تو یہ ا منافق اپنی طرف سے ہو شیاری دکھا رہے ہیں مگر سچی بات یہ ہے کہ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ سنو اور توجہ سے سنو کہ اصل میں یہی لوگ بیوقوف ہیں ولکن لا يَعْلَمُونَ لیکن یہ لوگ جانتے نہیں کہ اسلام تو خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے اللہ تعالیٰ اس کا محافظ ہے ، اسلام کو تو فتح ہونی ہے یہ جانتے نہیں اور سمجھتے ہیں کہ مسلمان جیت گئے تو بھی ہمارا فائدہ ہے۔اسلام کے دشمن جیت گئے تو بھی ہمارا فائدہ ہے، حالانکہ اگر مسلمان جیت گئے تو ان کا نفاق کھل جائے گا، ان کی دہری زندگی کھل کر سامنے آجائے گی، خود ان کے دل اسلام کی فتح کی وجہ سے جلن اور دکھ محسوس کریں گے اور اگر خدانخواستہ اسلام کو شکست ہوئی جس کا کوئی امکان نہیں ہے تو چونکہ یہ لوگ زبان سے اپنے آپ کو اعلانیہ مسلمان کہتے رہے ہیں اس لئے جو تکلیف دوسرے مسلمان اٹھائیں گے وہ یہ بھی اٹھائیں گے۔