365 دن (حصہ اول) — Page 18
درس القرآن 18 درس القرآن نمبر 14 في قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا وَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ (البقرة:11) قرآن شریف کی خوبیوں کا ذکر کرنے کے بعد سچے متقیوں کا جو قرآن کی ہدایت کے مطابق چلتے ہیں اور پکے کافروں کا جو باوجو د سمجھانے اور ہوشیار کرنے کے انکار کرتے ہیں اب ان لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے جو زبان سے ماننے کا اظہار کرتے ہیں اور دل میں ایمان نہیں رکھتے۔فرماتا ہے ایسے لوگ بیمار ہیں مگر بدن کے بیمار نہیں بلکہ دل کے بیمار ہیں کیونکہ کسی بات کو دل میں نہ ماننا اور زبان سے اس کے ماننے کا لوگوں کے سامنے اظہار کرنا ایک بہت بڑی بیماری ہے ایسا بیمار جھوٹ پر جھوٹ بولتا چلا جاتا ہے۔امام کے سامنے وہ جھوٹ بولتا ہے کہ وہ مومن ہے جھوٹی بیعت کرتا ہے مومن دوستوں کے سامنے جھوٹ بولتا ہے کہ وہ مانتا ہے جب کہ دل میں وہ انکار کر رہا ہوتا ہے۔اس جھوٹ کے نتیجہ میں اس کی بیماری بڑھتی چلی جاتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ بوجہ اس کے کہ وہ جھوٹ بولتے چلے جاتے ہیں۔اللہ ان کی بیماری کو بڑھاتا چلا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے مقرر کردہ امام کی اور اس کی جماعت کی مدد فرماتا ہے، ان کی تائید میں نشانات اور معجزات دکھاتا ہے، دلائل سے ان کی سچائی ظاہر کرتا ہے، اس پر ایسے لوگ جو صرف زبان سے اقرار کر رہے ہوتے ہیں سچ سچ مسلمان نہیں ہو جاتے اور کڑھتے ہیں اور اس طرح ان کی بیماری بڑھتی چلی جاتی ہے۔