365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 11 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 11

درس القرآن رس القرآن نمبر 8 11 الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرة:4) گزشته درس میں اس سے پہلی آیت ذَالِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة: 3 ) میں ہم نے پڑھا تھا کہ یہ کتاب قرآن شریف ایک نہایت اعلیٰ درجہ کی کامل کتاب ہے جس میں کوئی شک کی بات نہیں اور یہ کتاب متقیوں کو سیدھا راستہ دکھاتی ہے ان کو سیدھے راستے پر لے کر چلتی ہے اس آیت میں جو آج پڑھی گئی ہے یہ بتایا گیا ہے کہ یہ اوّل درجہ کی کتاب جو متقیوں کو ہدایت دیتی ہے تو متقی کون ہیں؟ پہلے متقیوں کی تین (3) بہت ضروری اور اہم صفات کا بیان ہے۔(1) جو غیب پر ایمان لاتے ہیں (2) جو نماز قائم کرتے ہیں(3) جو ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔سچے متقیوں کی جو قرآن سے فائدہ اٹھاتے ہیں یہ تین صفات ہیں۔پہلی صفت ہے ایمان لانا اس پر جو غیب ہے، چھپی ہوئی ہے، جو عام طور پر آنکھوں سے نظر نہیں آتی ، ہاتھوں سے ٹولی نہیں جاتی ، کانوں سے سنی نہیں جاتی اور وہ اللہ کی ذات جو نور کے پر دوں میں چھپی ہوئی ہے۔منتقی ایمان لانے کے بعد دو قسم کے کام کرتا ہے پہلا کام یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتا ہے، اللہ کا حق ادا کرتا ہے، جس کا سب سے ضروری اور سب سے پہلا عمل نماز کھڑی کرنا ہے ، ایمان لانے کے بعد ، خدا کو ماننے کے بعد ، نماز پہلی سیڑھی کی حیثیت رکھتی ہے۔اور اللہ کے حق ادا کرنے کے لئے نماز پڑھنے کے بعد اعمال میں دوسرا درجہ بندوں کی ہمدردی اور فائدہ کے لئے کام کرنا ہے جس کے لئے جو مال، جو طاقتیں، جو عقل، علم اللہ نے دیا ہے اس کو اللہ کے راستہ میں اور اس کے بندوں کی ہمدردی کے لئے خرچ کرنا ہے۔تو متقی کے لئے ضروری ہے کہ اگر قرآن سے فائدہ اٹھانا ہے تو پہلے وہ ایمان لائے پھر اللہ کے حقوق ادا کرنے کے لئے نماز ادا کرے اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کے لئے اپنی دولت اور اپنی طاقتیں بندوں کے لئے خرچ کرے۔