365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 145 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 145

درس حدیث 145 درس حدیث نمبر 38 حضرت سہل بن سعد روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی الم نے فرمایا: أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا وَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ( بخاری کتاب الأدب باب فَضْلِ مَنْ يَّعُوْلُ يَتِيْمًا 6005) ہمارے نبی صلی الیم نے جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس سے محبت ، اس کے خوف، اس سے زندہ اور مضبوط تعلق کی تعلیم دی ہے اور بار بار اپنی امت کو یہ ہدایت دی ہے ، وہاں مخلوق کی ہمدردی اور غمخواری پر بھی غیر معمولی زور دیا ہے۔خصوصاً ایسے لوگوں کی مدد اور خدمت کی تعلیم دی ہے جو بے سہارا ہوں اور جن کے ظاہری اسباب اور ذرائع موجود نہ ہوں۔ایسے لوگوں میں سب سے نمایاں وہ بچے ہیں جو چھوٹی عمر کے ہوں اور ان کے باپ یا ان کے ماں باپ دونوں فوت ہو چکے ہوں۔قرآن شریف میں ایسے بچوں کی دیکھ بھال پر بہت زور دیا ہے۔بلکہ یتیما ذَا مَقْرَبَةِ (البلد : 17) کہہ کر ایسے یتیموں کی پرورش کی طرف بھی توجہ دلائی ہے جو یتیم ہوں مگر ان کے کوئی رشتہ دار موجود ہوں اور یہ سمجھا جائے کہ ان کے ایسے رشتہ دار موجود ہیں جو ان کو سنبھال سکتے ہیں اور اس غلط فہمی میں ان کی دیکھ بھال میں غفلت ہو جائے۔یتیم کی پرورش کرنے کے بارہ میں اس حدیث میں ایسے رنگ میں توجہ دلائی گئی ہے کہ ہر ایک سچے مومن کا دل بے ساختہ اس نیکی کی طرف جھکتا ہے۔حضور علی ایم نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور حضور صلی الم نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ فرمایا ایک وہ انگلی جو قعدہ کے وقت کلمہ طیبہ پڑھتے وقت بلند کی جاتی ہے اور دوسری اس کے ساتھ کی انگلی جو درمیانی انگلی کہلاتی ہے۔اب ہم میں سے کون ہے جو یہ نہ چاہتا ہو کہ اسے حضور صلی ال یکم کا قرب حاصل ہو اور وہ قرب بھی جنت میں ہو۔