365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 146 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 146

درس حدیث 146 رس حدیث نمبر 39 حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا: أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ مَسَاجِدُهَا وَ أَبْغَضُ الْبِلَادِ إِلَى اللَّهِ أَسْوَاقُهَا (مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ باب فضل الجلوس في مصلاه۔۔۔وفضل المساجد 1528) جیسا کہ ہماری مجالس میں اکثر ذکر ہو تا رہتا ہے ہمارے دین کی تعلیم کی بہت سی شاخیں ہیں، بہت سے پہلو ہیں مگر ہمارے دین کی عمارت کی بنیاد، ہمارے مذہب کے درخت کی جڑھ ، اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس سے تعلق اور اس سے محبت ہے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق اور محبت کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کے حسن کو انسان یاد رکھے اور اس سے ڈرتا رہے ،اس کی ناراضگی اور اس کی سزا کے خوف کا احساس رہے۔اور اس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے اللہ کے ذکر کی بار بار تاکید کی ہے۔اللہ تعالیٰ کے ذکر سے گویا یوں کہیں اس کی خوبصورت شکل انسان کے سامنے آجاتی ہے۔اور اس کی نعمتوں کو انسان گویا دیکھتا ہے نیز اس کے غضب اور اس کی ناراضگی کا احساس انسان کو ہوتا ہے اور اس طرح انسان کو خدا کی محبت بھی پیدا ہوتی ہے اور اس کا ڈر بھی پیدا ہوتا ہے۔اور ذکر الہی اگر چہ ہر جگہ کیا جاسکتا ہے لیکن اس کی بہترین جگہ اللہ کے گھر ہیں جو مساجد کہلاتے ہیں اس لئے مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ پانچوں وقت مساجد میں نماز پڑھیں اور جمعہ کے دن خطبہ سنیں۔اس لئے اس حدیث میں جو ہم نے آج پڑھی ہے ہمارے نبی صلی علی کرم فرماتے ہیں کہ سب جگہوں میں اللہ کو سب سے زیادہ پیاری جگہ مساجد ہیں جہاں دن رات ذکر الہی ہوتا ہے اور اللہ کی اچھی صفات کا تذکرہ ہوتا ہے نیز فرمایا و أَبْغَضُ الْبِلَادِ إِلَى الله اسواقھا کہ سب سے زیادہ ناپسند اللہ کو بازار ہیں کیونکہ بازاروں کا ماحول اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کرتا ہے۔