365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 144 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 144

درس حدیث 144 درس حدیث نمبر 37 حضرت ابو ذر روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ال کلم نے فرمایا: الْإِيْمَانُ بِضْعُ وَ سَبْعُوْنَ أَوْ بِضْعُ وَ سِتُّوْنَ شُعْبَةً فَاَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ أَدْنَاهَا اِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ (مسلم کتاب الایمان باب بیان عدد شعب الايمان وافضلها وادناها۔۔۔153) حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی علی کرم نے فرمایا ایمان کی 70 سے اوپر کچھ یا فرمایا 60 سے اوپر کچھ شاخیں ہیں۔ایمان کی سب سے افضل شاخ تو یہ ہے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ الله کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں دادناھا اور سب سے عام بات یہ ہے اِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ راستہ سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹانا۔اس حدیث میں ہمارے نبی صلی علیکم نے اپنی امت کو ایک بڑا اہم سبق دیا ہے کہ ایمان کے دو بڑے حصے ہیں ایک جس کو حق اللہ کہتے ہیں اور دوسرا جس کو حق العباد کہتے ہیں۔ان میں سے ہر ایک کی کئی کئی شاخیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی توحید سب سے اہم، سب سے ضروری، سب کی جڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔حقوق العباد بندوں کے حقوق کی بہت سی شاخیں ہیں، ماں باپ کے حقوق ، بچوں کے حقوق، رشتہ داروں کے حقوق، افسروں کے حقوق ، ماتحتوں کے حقوق، غریبوں، کمزوروں، مزدوروں کے حقوق ، ہمسایوں کے حقوق۔ان حقوق میں سے ایک حق جس سے ہمارے ملک میں لوگ بہت غافل ہیں وہ راستے کے حق ہیں۔کیلا کھایا اور چھلکے سڑک پر پھینک دیئے، گھر کا گند صاف کیا اور سڑک پر ڈال دیا۔موٹر اتنی تیز رفتار سے چلائی کہ لوگوں کو جان بچانی مشکل ہو گئی۔یہ معمولی سی بات ہے مگر ہمارے ملکوں میں ہزاروں، لاکھوں ہر گھڑی یہ بات جو ہمارے حضور صلی ایم ایمان کے خلاف قرار دے رہے ہیں اس کا ارتکاب کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دے۔