365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 143 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 143

درس حدیث 143 ریث نمبر 36 حضرت حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلى الم نے فرمایا: الْبَيْعَانِ بِالْخِيَارِ مَالَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَ بَيَّنَا بُوْرِكَ لَهُما فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَتَمَا وَ كَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا ( ترمذی ابواب البيوع باب البيعين بالخيار مالم يتفرقا 1246) دنیا کے ہر ملک میں ، ہر معاشرہ میں تجارت کو ، خرید و فروخت کو مالی معاملات میں بہت ہی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ملکوں کی زندگی اور خوشحالی قوموں کی زندگی اور خوشحالی خاندانوں کی زندگی اور خوشحالی کا بہت حد تک تجارت و خرید و فروخت پر انحصار ہے۔روزانہ لاکھوں لاکھ ، کروڑوں کروڑ بلکہ اربوں ارب کی چیزیں ادھر سے ادھر جاتی ہیں۔کچھ ہاتھوں سے نکل کر دوسرے ہاتھوں میں پہنچ جاتی ہیں اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں اور یہ دیکھ کر افسوس بھی ہوتا ہے کہ وہ تاجر جو مسلمان نہیں ان کی تجارت میں برکت پڑ رہی ہوتی ہے اور وہ تاجر جو مسلمان ہیں وہ گھاٹا کھا رہے ہوتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض مسلمان تاجر حضور صلی علیم کی اس نصیحت پر عمل نہیں کر رہے ہوتے جس کا اس حدیث میں حکم دیا گیا ہے اور بہت سے غیر مسلم، غیر مسلم ہوتے ہوئے بھی اس حدیث پر عمل کر رہے ہوتے ہیں جس کا اس حدیث میں حکم ہے۔ہمارے نبی صلی ا ہم نے اس حدیث میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو دو آدمی خرید و فروخت کر رہے ہوتے ہیں اگر وہ سچ بول رہے ہوں اور صاف صاف سچی اور کھری بات کر رہے ہوں تو اس کی تجارت میں برکت پڑتی ہے اور دونوں کو اس برکت سے حصہ ملتا ہے لیکن اگر وہ دونوں کوئی بات چھپا رہے ہوں اور غلط بیانی کر رہے ہوں تو ان کی تجارت کی برکت مٹ جاتی ہے۔آج کی دنیا بین الا قوامی تجارت میں اس کا تجربہ خوب کر چکی ہے۔دیانت داری سے کام کرنے والی کمپنیاں اور ادارے اور تاجر دنیا میں اپنی ساکھ بنا لیتے ہیں اور ان کی شہرت اچھی ہو جاتی ہے۔شروع میں کچھ کمزوری ہو تو ہو مگر Long Range میں ان کو سراسر فائدہ ہوتا ہے مگر دھو کہ دینے ، غلط بیانی کرنے والوں کی تجارت شروع میں اگر کچھ فائدہ بھی اٹھالے تو آگے چل کر ان کی تجارت کو نقصان ہوتا ہے اور بیرونی ممالک ان سے سو دے کرنے میں احتیاط کرتے ہیں۔