365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 142 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 142

درس حدیث 142 رس حدیث نمبر 35 رض حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ ﷺ نے فرمایا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِيْنِهَا فَاظُفَرُ بِذَاتِ الدِّيْنِ تَرِبَتْ يَدَاكَ (مسلم کتاب الرضاع باب استحباب نكاح ذات الدين 3635) ہمارے نبی صلی الیم نے انسان کی زندگی کی تمام اہم شاخوں کے بارہ میں اپنی امت کو راستہ دکھایا ہے۔شادی بیاہ کا معاملہ انسان کی زندگی کا بہت اہم معاملہ ہے اور انسان کی دینی اور دنیوی خوشی کا بہت انحصار شادی سے پیدا ہونے والے تعلقات پر ہے اور انسان کی زندگی میں بہت زیادہ ناکامی کا باعث بھی خراب شادی ہے۔اس لئے آپ نے شادی بیاہ کے معاملات میں بھی مسلمانوں کو راستہ دکھایا ہے۔حضرت ابوہریرۃ روایت کرتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی الی کلم نے فرمایا کہ عام طور پر نکاح کرتے ہوئے عورت کے مال و دولت کو مد نظر رکھا جاتا ہے کبھی اس کے خاندان اور حسب و نسب کا خیال کیا جاتا ہے کبھی اس کی شکل و شباہت کی خوبصورتی دیکھی جاتی ہے اور کبھی اس کے دین کو سامنے رکھا جاتا ہے۔آپ نے فرمایا: اللہ تیرا بھلا کرے تم دیندار عورت سے شادی کرنے میں کامیابی حاصل کرو“ اس نہایت بلند پایہ نصیحت میں حضور صلی نیلی نیلم نے انسان کی خوش زندگی کے ایک راز سے پردہ اٹھایا ہے۔لوگ امیر عورتوں سے شادی کر لیتے ہیں مگر خاوند کی غربت اور بیوی کی دولت خاوند کو غلام بنائے رکھتی ہے۔بڑے سمجھے جانے والے خاندان کی عورت خاوند کو اپنے سے کم تر سمجھتی ہے۔خوبصورت عورت اپنی ظاہری شکل و شباہت پر نخرہ کرتی ہے مگر دیندار عورت جو دین کی اخلاقی تعلیم نرمی، نرم زبانی، تعاون، شفقت، اطاعت پر عمل کرنے والی ہو اپنے گھر کو جنت کو نمونہ بنادیتی ہے۔ہمارے نبی صلی علیم کایہ تجزیہ کتنا گہرا اور سچا ہے۔