365 دن (حصہ اول) — Page 141
درس حدیث 141 رس حدیث نمبر 34 حضرت جابر سے روایت ہے قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِ اللهِ يَوْمَ أُحُدٍ أَرَعَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ آنَا؟ قَالَ فِى الْجَنَّةِ فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ۔( بخاری کتاب المغازی باب غزوة احد 4046) ہمارے نبی صلی یکم کی تربیت اور آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں آپ کے صحابہ کرام میں جو پاک تبدیلی ہوئی اس کی مثال کسی اور روحانی یا دنیوی جماعت میں نہیں ملتی۔آپ صلی یہ کام کے مبعوث ہونے کے وقت عرب کے لوگ جس جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے اس میں کوئی قوم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔بدکاری، لوٹ مار ، ظلم ، جہالت، خود غرضی میں وہ اپنی مثال آپ تھے۔ہمارے نبی صلی علیکم کی پاکیزہ تعلیم اور آپ کی روحانی تربیت کے نتیجہ میں ان کی کایا پلٹ گئی۔آپ کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کا نقشہ اپنے عربی کلام میں یوں کھینچتے ہیں: صَادَفَتَهُمْ قَوْمًا كَرَوْثٍ ذِلَّةٌ فَجَعَلْتَهُمْ كَسَبِيْئَةِ الْعِقْيَانِ ( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 591) کہ آپ نے ان کو ایک ایسی قوم پایا جو گوبر کی طرح ذلیل تھی اور آپ نے ان کو سونے کی ڈلی کی طرح بنا دیا۔انہوں نے مسلمان ہو کر اور ہمارے نبی صلی علیم کی تربیت میں آکر عبادت، اخلاق، آداب میں ایسی پاک تبدیلی کی جس کو پڑھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔خدا کی خاطر انہوں نے نہ اپنی جان کی پرواہ کی نہ مال کی۔اس قربانی کی ایک مثال آج کی مختصر حدیث میں ہے۔احد کے دن مسلمانوں کو اپنے سے کئی گنا دشمن سے مقابلہ تھا کہ ایک صحابی نے جو بھوک کی وجہ سے ہاتھ میں کچھ کھجوریں لئے کھارہے تھے حضور صلی ال نیم کے پاس سے گزرے اور حضور سے پوچھا۔حضور اگر میں اس وقت دشمن کے ہاتھوں قتل ہو جاؤں تو کہاں جاؤں گا؟ آپ نے فرمایا جنت میں۔یہ سنتے ہی اس صحابی نے یہ بھی انتظار نہیں کیا کہ وہ دو چار کھجوریں جو ان کے ہاتھ میں تھیں، کھالیں۔انہوں نے وہ کھجوریں ہاتھ سے پھینک دیں اور بڑی بہادری سے دشمن پر ٹوٹ پڑے اور شہید ہو گئے۔