365 دن (حصہ اول) — Page 129
درس حدیث 129 درس حدیث نمبر 22 حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ سُئِلَ النَّبِی یا الله أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى الله ؟ کہ اللہ کو سب سے زیادہ پیارے اعمال کون سے ہیں قَالَ أَدْوَمُهَا وَاِنْ قَلَّ (بخاری کتاب الرقاق باب القصد والمداومة على العمل 6465) الله اللہ کو سب سے پیارے وہ اعمال ہیں جو ہمیشہ باقاعدگی سے کئے جائیں اگر چہ وہ تھوڑے ہوں۔اس حدیث میں ہمارے نبی صلی علیم نے دین اور دنیا میں کامیابی اور ترقی کا ایک زبر دست گر بیان فرمایا ہے۔کام دین کا ہو یاد نیا کا، نماز پڑھنا ہو یازراعت کرنا، خدمت دین کرنا ہو یا دنیا کمانے کے لئے تجارت، ملازمت وغیرہ کرنا اگر اس میں باقاعدگی نہ رکھی جائے، ضرورت کے مطابق با قاعدہ محنت نہ کی جائے تو وہ کام سرے نہیں چڑھتا۔بعض طالبعلم امتحان کے قریب جوش میں ساری ساری رات پڑھتے ہیں، پاس بھی ہو جاتے ہیں، مگر اس طالبعلم کی طرح اس کو علم حاصل نہیں ہوتا، گہرا اور مفید علم اس کو حاصل نہیں ہو تا جبکہ وہ طالبعلم جو با قاعدہ کلاس میں جاتا ہے توجہ سے سنتا ہے، نوٹ لیتا ہے ، استاد کا دیا ہوا کام کرتا ہے اور روزانہ سٹڈی کے اوقات میں کام کرتا ہے، نہ چند دن جوش و خروش سے ساری ساری رات پڑھ کر اپنی صحت کا نقصان کرتا ہے ، نہ باقی سال وقت ضائع کر کے اپنی تعلیم کا نقصان کرتا ہے۔یہی حال باقی تمام کاموں اور پیشوں کا ہے خواہ تجارت ہو، خواہ زراعت ہو، خواہ ملازمت ہو ، حضرت عائشہ نے ہمارے نبی صلی علیکم کی پسند و ناپسند کو بہت قریب سے دیکھا اور آپ فرماتی ہیں۔كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللهِ اللهِ الَّذِي يَدُوْمُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ ( بخاری کتاب الرقاق باب القصد والمداومة على العمل (6462 کہ رسول اللہ صلی علیم کو سب سے پیارا کام وہ لگتا تھا جس میں کام کرنے والا با قاعدہ ہو۔