365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 128 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 128

درس حدیث 128 س حديد نمبر 21 ہمارے نبی صلی ال ولم فرماتے ہیں اَلسَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِيْنِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيْلِ اللهِ كَالْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ وَكَالصَّائِمِ لَا يُفْطِرُ ( بخاری کتاب الأدب باب الساعي على المسكين 6007) جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے ہمارے دین اسلام کے دو بڑے حصے ہیں ایک حصہ کا زیادہ تعلق اللہ کے حضور نماز پڑھنے اور روزے رکھنے اور اس کے دین کے لئے جہاد کرنے سے ہے اس کو عموماً ہم اللہ کا حق کہتے ہیں اور دوسرے حصہ کا تعلق بندوں کی خدمت اور ان سے نیک سلوک سے ہے جس کو ہم بندوں کا مخلوق کا حق کہتے ہیں۔بعض لوگ اللہ کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نماز روزہ کا بڑا خیال رکھتے ہیں مگر بعض دفعہ ایسے لوگوں کے ہمسائے اور م الله رشتہ دار ان سے خوش نہیں ہوتے کیونکہ وہ ان کے لئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ہمارے نبی صلی ا ظلم کی زندگی کو دیکھیں تو جہاں آپ صلی ال یکم رات کو بھی بہت دیر تک نفل ادا کرتے اور دن کو نماز با جماعت کی پابندی کرتے، روزے رکھتے اور جب بھی ضرورت ہوتی جہاد کے لئے تشریف لے جاتے۔وہاں آپ صلی یا کام غریبوں کا خیال رکھتے ، مسکینوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے سعی کرتے۔اس حدیث میں ارشاد ہے کہ بیواؤں اور مساکین کے لئے جد و جہد کرنے والے کا مقام معمولی نہ سمجھو اس کا وہی مقام ہے جو اس شخص کا ہے جو کا دن رات جہاد میں مصروف ہے اس شخص کا ہے جو عبادت کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور تھکتا نہیں اس روزہ دار کی طرح ہے جو با قاعدہ روزے رکھتا چلا جاتا ہے اور روزہ چھوڑتا نہیں۔