365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 113 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 113

به ر درس حدیث نمبر 8 113 اگر ہمیں ہمارے حضرت صاحب کی خدمت کا تھوڑا سا موقعہ بھی ملے تو ہمیں کتنی خوشی ہو گی اور ہم اپنے آپ کو کتنا خوش قسمت محسوس کریں گے۔شاید خوشی اور مسرت سے ہمیں نیند نہ آئے اور ہم اپنے بیوی بچوں سے ، دوستوں سے اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا ذکر کریں کہ ہم کتنے خوش قسمت ہیں، کتنا ہم پر اللہ کا فضل ہوا ہے کہ اس نے ہمیں توفیق دی کہ ہم یہ خدمت بجالائیں۔ہمارے نبی صلی الہ یکم کا ایک خادم تھا اس کا نام مدعم تھا وہ ایک غزوہ کے موقعہ حضور صلی علیم کی سواری سے پالان وغیرہ اتار رہا تھا کہ ایک تیر آیا، دور سے آیا، کس نے مارا بتہ نہیں لگا، ہو سکتا ہے کسی نے حضور صلی الظلم کا نشانہ بنانے کی کوشش کی ہو یا آپ کی سواری کو ختم کرنا اس کا مقصد ہو بہر حال مدعم اس تیر کا نشانہ بن کر موت کے گھاٹ اتر گیا۔صحابہ نے کہا واہ کیا ہی خوش قسمت ہے یہ نوجوان، جہاد کا موقعہ ہے، یہ نوجوان حضور کی سواری پر کام کر رہا ہے۔حضور صلی اللی کم کی خدمت میں مصروف ہے، صحابہ نے خیال کیا کہ یہ نوجوان تو سیدھا جنت میں گیا ہو گا۔مگر آپ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا اس نوجوان نے بغیر اجازت کے غنیمت کے مال سے ایک چادر یا عباء لی تھی وہ چادر اس پر آگ بھڑ کار ہی ہے۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خیبر 4234) اس حدیث میں مالی بد دیانتی خصوصاً قومی اموال میں خیانت کے خلاف ہم سب کے لئے سبق ہے اور آج کی دنیا میں خصوصاً ہمارے تیسری دنیا کے ممالک قومی اموال کے معاملہ میں بد دیانتی میں قابل فکر حد تک بڑھ چکے ہیں۔حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ خیبر سے واپس آرہے تھے اور وادی القریٰ کی طرف جارہے تھے اور آپ کا خادم مدعہ آپ کی سواری سے کجاوہ اتار رہا تھا کہ ایک تیر اس کو آکر لگا۔لوگوں نے کہا اس کو شہادت مبارک ہو تو رسول اللہ صلی ا یم نے فرمایا اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ چادر جو اس نے خیبر کے دن غنیمتوں کے اموال سے جو ابھی تقسیم نہیں ہوئے تھے لے لی تھی اس کے اوپر آگ بھڑ کار ہی ہے۔ایک شخص نے جب نبی صلی اللہ ہم سے بات سنی تو وہ ایک یادو (جوتی کے) تسمے لے کر آیا اور اس نے کہا یہ چیزیں میں نے لے لی تھیں آپ نے فرمایا آگ کا ایک تسمہ یا دو تھے۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خیبر 4234)