365 دن (حصہ اول) — Page 106
درس حدیث درس حدیث نمبر 4 106 حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ ﷺ نے فرمایاثَلَاثُ مَنْ كُنَّ فِيْهِ وَجَدَ حَلَاوَةً الْإِيْمَانِ کہ تین باتیں ایسی ہیں کہ جس میں وہ پائی جائیں وہ ایمان کی شیرینی کو محسوس کرتا ہے۔ان باتوں میں پہلی بات حضور نبی صلی الہ ہم نے یہ فرمائی ہے من كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهَا کہ اللہ اور اس کار سول ان دونوں کے سواہر ر شخص سے، ہر چیز سے زیادہ پیارے اور محبوب ہوں۔( بخاری کتاب الایمان باب حلاوة الايمان 16) اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کا تعلق صرف ظاہری اقرار سے نہیں صرف ظاہری اعمال سے نہیں بلکہ ایمان کا تعلق دل سے ہے اور دل کے جذبات سے ہے۔اگر کوئی شخص زبان سے تو مسلمان ہونے کا اقرار کرتا ہے ظاہری شکل کے لحاظ سے اسلام کے حکموں کی تعمیل کرتا ہے مگر اس کے دل میں اللہ اور رسول صلی علیکم کی محبت نہیں۔اس کو اپنے بیوی بچوں سے زیادہ محبت ہے، روپیہ پیسہ سے زیادہ محبت ہے، مال اور جائیداد سے زیادہ محبت ہے ، اپنے آپ سے زیادہ محبت ہے تو وہ بے شک قانونی طور پر مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔ظاہر ی لحاظ سے اس کا شمار مسلمانوں میں سے ہی ہو گا مگر ابھی اس کو ایمان کا مزہ نہیں آیا۔سچا مومن دنیا کی ہر چیز سے ، ہر شخص سے زیادہ وہ اللہ سے محبت کرتا ہے۔اللہ کے بعد وہ رسول اکرم رسول اللہ صلی الم سے محبت کرتا ہے وہ سچا مومن ہے اور اس نے ایمان کا سچا مزہ پالیا ہے۔اس کے لئے ہمارے نبی صلی اللہ کریم نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا حُبَّكَ اے اللہ ہمیں اپنی محبت اس طرح عطا فرما جس طرح کسی کو رزق دیا جاتا ہے وَحُبّ مَنْ احبك اور ہمیں اس کی محبت عطا فرما جو تجھ سے محبت کرتا ہے وَحُبّ مَا يُقَرِّبُنَا إِلَى حُبِكَ اور ان کاموں کی ان باتوں، ان چیزوں کی محبت عطا فرما جو ہمیں تیرے قریب کر دیں اللهم اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ اور اپنی محبت ہمیں ٹھنڈے خوشگوار پانی سے زیادہ محبوب بنا دے۔( دروس للشيخ ابى اسحاق الحويني الدفاع عن السنتہ باب حاجتنا الى العلماء العاملين جز 144 صفحه 18 مأخوذاز مكتبة الشاملة) ا