365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 107 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 107

درس حدیث 107 درس حدیث نمبر 5 ہمارے نبی صلی الله علم فرماتے ہیں خَيْرُكُمْ مَّنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَ عَلَّمَہ کہ تم میں سے بہترین وہ لوگ ہیں جو قرآن سیکھتے اور خود سیکھ کر پھر لوگوں کو سکھاتے ہیں۔( بخاری کتاب فضائل القرآن باب خيركم من تعلم القرآن وعلمه 5027) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ہم احمدیوں پر جو احسانات ہیں ان میں سے ایک بہت بڑا احسان یہ ہے کہ آپ کی آمد سے پہلے بہت سے مسلمان جو علم دین حاصل کرتے ان کی ساری توجہ نحو، صرف اور فقہ اور منطق و فلسفہ پڑھنے پڑھانے کی طرف ہوتی تھی اور مسلمانوں کے مدر سے اور مکتب نوجوان طلبہ کے سالہا سال ان مضمون کو پڑھانے میں ضائع کر دیتے تھے پھر به مشکل حدیث کی باری آتی تھی اور حدیث کے پڑھنے میں بھی اللہ تعالیٰ کی معرفت اور رسول کریم صلی یکم کا پیار اور آپ کے اخلاق اور جمال کے بجائے ایسے مسائل پر بحث ہوتی تھی جن کا تعلق فقہ سے تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم احمدیوں کو قرآن سے دوبارہ تعارف کر ایا اور اس کی ایسی تفسیر بیان کی جس نے احمدیوں کے دلوں میں قرآن کی محبت پیدا کی اور ثابت کیا کہ قرآن ہی ایسی کتاب ہے جو ایک انسان کی اصلاح کر سکتا ہے، اس کو پاک کر سکتا ہے، بلکہ اسلام کو تمام دنیا پر غالب کر سکتا ہے اور تمام دنیا کی راہنمائی کر سکتا ہے۔آپ نے ہمیں یاد کرایا کہ قرآن خدا کا کلام ہے اور وہ آخری کتاب ہے جو سب نبیوں کے سردار حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی ملی لی کم پر نازل ہوئی اور وہ انسانی زندگی کے تمام مسائل میں دنیا کی راہنمائی کر سکتا ہے۔آپ نے بتایا کہ مسلمانوں کو ساری دنیا میں شکست ہو رہی ہے۔آپ نے فرمایا: تب ادبار آیا کہ جب تعلیم قرآں کو بھلا یا مسیحا کو فلک پر ہے بٹھا یا مسلما نو سول حق کو مٹی میں سلا یا