دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 44
44 رانا خلیل احمد دیوبندی علماء کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے مزید فرماتے ہیں۔” مناظرین دیوبندیت جتنی چالیں چلیں مگر قاسم نانوتوی کے پوتے قاری طیب صاحب پوری دلیری کے ساتھ اپنے دادا کی تعلیم کو واضح کیا ہے کہ ختم نبوت کا یہ معنی لینا کہ نبوت کا دروازہ بند ہو گیا یہ دنیا کو دھوکہ دینا ہے ختم نبوت کے معنی قطع نبوت کے نہیں بلکہ کمال نبوت اور تکمیل نبوت کے ہیں ( خطبات حکیم الاسلام ، جلد 1 صفحہ 47) نبوت بخش یا نبی تراش قاری طیب نے مزید لکھا کہ حضور کی شان محض نبوت ہی نہیں بلکہ نبوت بخش بھی نکلتی ہے کہ جو بھی نبوت کی استعداد پایا ہوا فرد آپ کے سامنے آگیا نبی ہو گیا۔آفتاب نبوت ، صفحہ 19 اس پر دیو بند ہی سے عامر عثمانی کولکھنا پڑا کہ حضرت مہتمم صاحب نے حضور کو نبوت بخش کہا تھا مرزا صاحب نبی تراش کہہ رہے ہیں حرفوں کا فرق ہے معنی کا نہیں۔“ ( تجلی نقد و نظر، صفحه 78) آگے چل کر بریلوی علماء کرام متاخرین دیوبندی علماء کرام مثلاً مولوی اشرف علی تھانوی اور مولوی رشید احمد گنگوہی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور ان کی کتب سے بھی ایسے ہی حوالہ جات ڈھونڈ نکالتے ہیں جو اُن کے خیال میں نہ صرف جماعت احمدیہ کے لئے احترام کے جذبات رکھتے تھے بلکہ ختم نبوت کی تفسیر میں بھی جماعت احمدیہ کے ہی شانہ بشانہ چل رہے تھے۔چنانچہ مشہور مناظر بریلوی مولوی سید ہم حسین شاہ بخاری کا تبصرہ پیش ہے۔مولوی اشرف على تهانوى ضمیمه ختم نبوت بریلوی مولوی سید تبسم حسین شاہ بخاری فرماتے ہیں۔”اب قادیانیوں کو ایسے دلائل کہاں سے حاصل ہوتے ہیں کہ وہ مرزا غلام احمد کی نبت۔۔۔کو سچی نبوت قرار دے سکیں اور کہ سکیں کہ نبوت کی ضرورت ہر زمانے میں رہی ہے اس لئے ہم آپ کو پھر مؤلف جامع المجد دین“ کے پاس لئے چلتے ہیں لکھتے ہیں۔