دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 45
45 غرض بعثت مجددین ختم نبوت کی کتاب کا ایسا نا گزیر ضمیمہ ہے جس کے بغیر اس کتاب کا ختم سمجھنا ہی دشوار ہے اور نہ عقیدہ ختم نبوت کی اس دشواری کو آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے کہ جمعمولی عقائد و اعمال ہی میں اختلال نہیں بلکہ کفر و شرک تک کے دینی مفاسد ہر زمانے میں نئے نئے پیدا ہوتے رہتے ہیں تو پھر آخر نبوت کی ضرورت کیسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی۔“ (جامع المجد دین ،صفحہ 119 ، 120 مولفہ عبدالباری) اسی نبوت کی ضرورت کو مرزا قادیانی نے یوں بیان کیا۔”ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔“ (حقیقۃ النبوۃ ، صفحہ 272) تھانوی صاحب کو اگر نبوت کا ضمیمہ قرار دیا گیا ہے تو ظاہر ہے ان کی کتب کو ضمیمہ آیات قرآنی ہی کہہ سکتے ہیں۔ختم نبوت کی کتاب کے اس ناگزیر ضمیمے یعنی مولوی اشرف علی تھانوی کے متعلق بھی اور اس کی کتب کے متعلق بھی ایک پر جوش مستانے کی یہ تحریر دل کی آنکھوں سے پڑھ کر عبرت حاصل کیجئے۔" آج جو شخص بھی دین اسلام کے چہرے کو پورے جمال و کمال کے ساتھ بالکل صاف و بے غبار جامع و کامل صورت میں از سر نو جدید یافتہ اور تر و تازہ دیکھنا چاہتا ہے وہ عہد حاضر کے جامع المجد دین (تھانوی صاحب) کی کتابی آیتوں کی طرف علما و عملاً رجوع کر کے خود شاہد کرسکتا ہے۔“ (جامع المجد دین ، صفحہ 75) (سپاہ دیوبند کے لئےلمحہ فکریہ از تقسیم شاہ بخاری، صفحہ 442 تا443) مولوی سید تقیسم حسین شاہ بخاری مولوی رشید احمد گنگوہی کے حوالے سے مزید فرماتے ہیں کہ کسی نے ان سے یہ سوال کیا۔سوال : مرزائی کے جنازہ کی نماز جو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا نبی مانتے ہیں پڑھنی چاہیئے یا نہیں۔“ جواب : ایسے مرزائی قادیانی کو اکثر علماء کا فرفرماتے ہیں لہذا اس کی صلوٰۃ جنازہ نہ پڑھنی