دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 43
43 یوں بیان کرتے ہیں کہ اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں نہ کہیئے اور اس مقام کو مقام مدح نہ قرارد یجئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تا خرزمانی صحیح ہو سکتی ہے مگر میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارہ نہ ہوگی بلکہ قاسم نانوتوی تو خاتمیت زمانہ کو سرکار صلی یا ایلیم۔۔کی شان کے لائق ہی نہیں سمجھتا ملاحظہ ہو تحذیر الناس،صفحہ 11 که شایان شانِ محمدی صلی تیم خاتمیت مرتبی ہے نہ زمانی“۔اسی طرح تحذیر الناس ،صفحہ 33-34 پر خاتمیت بمعنی انصاف ذاتی بوصوف نبوت کا اپنا موقف پیش کر کے لکھتا ہے کہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلالہ اسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فر ق نہ آئے گا۔“ اور پھر تحذیرالناس ،صفحہ 17 پرلکھتا ہے کہ وصف ایمانی آپ صلیم میں بالذات ہو اور مومنین میں بالغرض اگر نبی بالذات ماننے سے آپ صلی اسلام کو آخری نبی مانا لازم آتا تھا تو نانوتوی پرست ان مذکور دو عبارتوں کو سامنے رکھ کر بتلائیں کہ کیا آپ صلی بینم کو مومن بالذات ماننے سے لازم نہیں آتا کہ آپ صلی یا ہم آخری مومن ہیں اور آپ کے بعد کوئی بھی مومن نہیں ہے۔“ " دیوبندی خیانت“ را نا خلیل احمد صاحب مزید انکشاف کرتے ہوئے اسی عنوان ” تحذیر الناس کے دفاع کے تعاقب میں زیر عنوان دیو بندی خیانت فرماتے ہیں: دیو بندہی سے مکتبہ راشد کمپنی نے تحذیر الناس شائع کی تو عبارت یوں بدل دی کہ اگر بالفرض آپ کے زمانہ میں یا بالفرض آپ کے بعد بھی کوئی نبی فرض کیا جائے تو بھی خاتمیت محمدی میں فرق نہ آئے گا۔اور یوں پیدا ہو کی جگہ فرض کیا جائے۔۔۔لکھ کر چھپانے کی کوشش کی۔