دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 30
30 50 2۔دیوبند کے قطب عالم : مولوی رشید احمد لنلو ہی 3۔دیوبند کے شیخ الحدیث : مولوی خلیل احمد سہارنپوری 4۔دیو بند کے حکیم الامت : مولوی اشرف علی تھانوی 5۔دیوبند کے امام الہند : مولانا ابوالکلام آزاد ان میں سے موخر الذکر مولانا ابوالکلام آزاد تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جنازہ کے ساتھ لاہور سے قادیان تک گئے اور واپسی پر اپنی اخبار میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو زبر دست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فتح نصیب جرنیل اور اسلام کا عظیم مدافع قرار دیا۔پھر 1908ء کے بعد یہ کیا ماجرا ہو گیا کہ بعد میں آنے والے قدرے کم درجہ کے علماء دیوبند نے اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا صرف اور صرف جماعت احمدیہ کے لئے سخت زبان استعمال کرنا بنالیا۔یہ U-turn کیوں آیا اور کیسے آیا؟ اور آخر کس مجبوری نے اہالیانِ دیو بند کا قبلہ وکعبہ بدل کر رکھ دیا؟ سوال نمبر 3 تیسرا سوال جو احمدی بیچے ان دیوبندی حضرات سے مزید حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں اول المخالفین کی صف میں زیادہ بڑی تعداد میں غیر مقلدین کا گروہ نظر آتا ہے جن میں مولوی ثناء اللہ امرتسری ، مولوی نذیر حسن دہلوی ، مولوی محمد حسین بٹالوی ، مولوی بشیر حسین بھوپالوی، اور غزنوی خاندان کے افراد و غیرہ ہیں جن سے حضور علیہ السلام کے تحریری بھی اور زبانی بھی مباحث و مذاکرے ہوئے مگر پھر اچانک سین پلٹتا ہے اور دیوبندی حضرات کبھی احرار کی شکل میں اور کبھی محافظین ختم نبوت کے نام سے جماعت احمدیہ پر حملہ آور ہو جاتے ہیں اور پھر مخالفت بلکہ اندھی مخالفت کی پہلی صف کو سنبھال لیتے ہیں۔اچانک مخالفین احمدیت کی صفوں میں تبدیلی اور دیو بندی حضرات کا صف اول میں آنا۔یہ حادثہ اسلام اور ختم نبوت سے محبت تھی یاکسی سیاسی مجبوری کا شاخسانہ؟ احمدی بچے کے یہ سوال اور ان جیسے دیگر سینکڑوں سوال تقاضا کرتے ہیں کہ دیکھا جائے کہ آخر وہ کیا مجبوری ہے جس نے دیوبندی حضرات کا Motto ہی جماعت احمدیہ کی اندھی مخالفت بنادیا؟