دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال

by Other Authors

Page 29 of 101

دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 29

29 سر ندامت سے نہیں جھک جائے گا۔(روز نامه تمیر 11 مارچ 1953ء، صفحہ 3) اخبار مغربی پاکستان لاہور 6 مارچ 1953ء کے دن دیو بندی خدمات کو ان نظروں سے دیکھتے ہوئے رقم طراز تھا۔خدا اور محمد کے نام کے ساتھ انتہائی غلیظ اور قابل نفرت گالیاں دی جاتی ہیں تشدد کے مظاہرے کئے جاتے ہیں۔۔۔کیا یہ سچے مسلمان کے اعمال ہو سکتے ہیں؟ پھر مذہب کے نام پر یہ ہڑبونگ کیوں مچائی جارہی ہے۔ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ احراریوں کی ہٹر بونگ، اس راست اقدام اس ختم نبوت کو اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔“ (روز نامہ مغربی پاکستان لاہور 6 / مارچ 1953ء) جھوٹ ، پست اور بازاری زبان، پرلے درجے کی مکروہ گستاخانہ تضحیک بھنگڑے سوانگ ، مغلظ گالیاں، اخلاق سوز حرکتیں بخش بازاری گالیاں ، لوٹ مار، توڑ پھوڑ اور آتش زدگی کی وارداتیں کرتے اور کرواتے ہوئے یہ عالم دین کس اسلام کو پیش کر رہے ہیں؟ احمدیت کی دشمنی میں اتنا مکروہ اخلاقی دیوالیہ کیوں ؟ عقل بے چاری مولوی منظور احمد نعمانی کی زبان میں حیران ہو ہو کر پھر سوال کرتی ہے کہ آخر وہ کون سی مگر وہ مجبوری ہے جس کے سامنے دیوبندی علماء نے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں ہر اخلاقی و مذہبی حدود و قیود کو پھلانگنا قبول کر لیا ہے اور ہر ایمانی قدر سے طلاق لینا پسند کر لی۔آخر کیوں؟ اور آخر کس لئے ؟ یہی بات ایک احمدی بچے کا پہلا سوال ہے سوال نمبر 2 دوسری بات جو احمدی بچے ان دیوبندی حضرات سے پوچھتے ہیں کہ بانی جماعت حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے 1880ء میں تائید اسلام میں اپنی پہلی کتاب تصنیف فرمائی جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے والی بہت سی بشارات والہامات کا تذکرہ فرمایا اور یہ تحریر و دعاوی کا سلسلہ آپ کی حیات برکات کے اخیر تک یعنی 1908 ء تک جاری رہا۔- اس عرصہ میں دیو بند کے 5 ابتدائی بزرگان حیات تھے۔1۔دیوبند کے موسس اعلیٰ : مولوی محمد قاسم نانوتوی