دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال

by Other Authors

Page 31 of 101

دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 31

31 باب نمبر 3 1905 کاوه سربسته راز ย احمدی بچوں کے ظاہر اسادہ سے نظر آنے والے سوال اپنے دامن میں بہت سی آفاقی سچائیاں سمیٹے ہوئے ہیں۔بہت سی تلخ سچائیاں اور بہت سے تلخ حقائق۔وہ دل کیسا ہوگا ؟۔۔۔وہ آنکھ کیسی ہوگی ؟۔۔۔وہ زبان کیسی ہوگی ؟۔۔۔وہ ہاتھ کیسے ہونگے ؟ جنہوں نے فاطمتہ الزہرا کی گود میں کھیلنے والے۔۔۔علی المرتضیٰ کے بازووں میں چہکنے والے۔۔۔۔سرکار دو عالم صلی ما ای ایم کے کندھوں پر بیٹھ کر کلکاریاں مارنے والے سردار بہشت کو بھوکا پیاسا رکھ کر تڑپا تڑپا کر شہید کیا اور پھر نماز ادا کی۔وہ مفتی صاحب کیسے ہونگے ؟۔۔۔اور اُن کا قلم کیسا ہوگا ؟ جنہوں نے خانوادہ رسول صلی یا ایلیم کے علی اصغر جیسے معصوم کم سن بچے پر پانی بند کیا اور پھر پانی مانگنے پر اس کے حلق پر تیر مار کرا سے دکھوں سے آزاد کیا وہ جرنیل کیسے ہونگے ؟۔۔۔اور اُن کے سپاہی کیسے ہونگے ؟ جو خاندان نبوت کی پاک دامن تتلیوں جیسی شہزادیوں کو بھوکے پیاسے ، ننگے سر اور ننگے پاوں اسیر کر کے پیدل چلاتے ہوئے بڑے فخر سے حاکم وقت کے دربار میں لے کر حاضر ہوئے۔تاریخ ان تمام سوالوں کو جواب دیتی ہے۔ایک ایک ظلم کے پیچھے چھپے حقائق کو بے نقاب کرتی ہے اور چیخ چیخ کر یہ اعلان کرتی ہے کہ جب مذہب کے نام پر سیاست شروع ہو جائے تو آنکھوں پر اقتدار کے حصول کی پٹیاں بند جاتی ہیں ایسے میں ضرور کر بلا کے سانحہ ہوتے ہیں۔کاتب وقت آج بھی تاریخ لکھ رہا ہے۔اس لئے ان سوالوں کے جواب جاننے کے لئے ضروری ہے کہ تاریخ کے جھروکوں میں جانکھا جائے۔