بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 53 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 53

53 پیرا گراف ہی حذف کر دیا مگر بعد ازاں جب سقوط ڈھاکہ کا المیہ پیش آیا اور پاکستان دولخت ہو گیا تو مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے یہی انگریزی رسالہ دوبارہ Qadianism" کے نام سے چھپوا لیا اور اس میں بھی متعلقہ نوٹ مع اشعار کے برقرار رکھا لیکن اس کے دوسرے ایڈیشن میں اشعار تو ربڑ کی مہر سے محو کر دئے گئے البتہ ان کا انگریزی ترجمہ اور عنوان بدستور برقرار رکھا گیا۔خامه انگشت بدنداں کہ اسے کیا لکھئے ناطقہ سر بگریباں کہ اسے کیا کہتے -۱۹ مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی (ولادت ۱۹۳۱ء) (غالب) سند یافتہ دار العلوم اسلامیہ ٹنڈوالہ یار (۱۹۵۰ء) پر نسپل جامعہ عربیہ چنیوٹ۔ناظم اعلیٰ ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد صدر مجاہدین احرار پاکستان۔سابق رکن صوبائی اسمبلی پنجاب۔القاب سفیر ختم نبوت۔فاتح ربوہ وغیرہ۔بقول "مولانا" سید ابو الاعلی صاحب مودودی " پیشہ ور مناظرین نے آج کل مباہلے کو کشتی کے داؤں میں باضابطہ طور پر شامل کر لیا ہے " ( ترجمان القرآن اگست ۱۹۵۶ء۔رسائل و مسائل حصہ چہارم صفحه (۲۲) اسی "داؤ کی ایک کڑی جناب چنیوٹی صاحب کا ایک آٹھ ورقہ پمفلٹ دعوت مباہلہ کا آخری چیلنج " بھی ہے جو انہوں نے حضرت امام جماعت احمدیہ کو مخاطب کر کے لکھا اور ۱۹۶۲ء میں ثنائی پریس سرگودھا سے طبع کرایا۔اس پمفلٹ کے آخر میں یہ شعر تھا۔" , كان نصيحة لله فرضی فقد بلغت فرضی بالوداد یعنی میرا فرض اللہ کے لئے نصیحت کرنا تھا سو میں نے اپنا فرض محبت سے ادا کر دیا E