بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 43
43 عنوان در مدح رسول اکرم محمد مصطفی خاتم النبین من الليل - در دلم جو شد ثنائے سرورے آنکه رو خوبی ندارد ہمرے میرے دل میں اس سردار کی تعریف جوش مار رہی ہے جو خوبی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔آنکه جانش عاشق یار ازل آنکه روحش واصل آن دلبرے وہ جس کی جان خدائے ازلی کی عاشق ہے۔وہ جس کی روح اس دلبر میں واصل ہے۔بری آنکہ مجذوب عنایات حق است پیچو طفله پرور دیده ور وہ جو خدا کی مہربانیوں سے اس کی طرف کھینچا گیا ہے اور خدا کی گود میں ایک بچہ کی مانند پلا ہے۔آنکه در برد کرم بحر عظیم آنکه در لطف اتم یکتا درے وہ جو نیکی اور بزرگی میں ایک بحر عظیم ہے اور کمال خوبی میں ایک نایاب موتی ہے۔فیض و عطا یک خاورے آنکه ور جود ور و سخا ابر بہار آنکہ ره بخشش اور سخاوت میں ابر بہار ہے اور فیض و عطا میں ایک سورج ہے۔آں رحیم و رحم حق را آیتے آن کریم و جود حق را مظهرے وہ رحیم ہے اور رحمت حق کا نشان ہے۔وہ کریم ہے اور بخشش خداوندی کا مظہر ہے۔آن رخ فرخ که یک دیدار او زشت رو را می کند خوش منظرے اس کا مبارک چہرہ ایسا ہے کہ اس کا ایک ہی جلوہ بدصورت کو حسین بنا دیتا ہے۔آن دل روشن که روشن کرده است صد درون تیره را چون اخترے وہ ایسا روشن ضمیر ہے جس نے روشن کر دیا سینکڑوں سیاہ دلوں کو ستاروں کی طرح۔اں مبارک ہے کہ آمد ذات او رحمتے زاں ذات عالم پرورے وہ ایسا مبارک قدم ہے کہ اس کی ذات خدا تعالیٰ کی طرف سے رحمت بن کر آئی ہے۔از بنی آدم فزوں تر در جمال وز اولی پاک تر در گوھرے