بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 42 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 42

42 دنیا میں کسی کو یقین کا منہ دیکھنا نصیب نہیں ہو تا۔مگر اسی شخص کو جو اس کے منہ سے محبت رکھتا ہے۔آنکس که عالمش شد شد مخزن معارف واں بے خبر ز عالم کیں عالمی ندیده جو اس کا عالم ہو گیا وہ خود معرفت کا خزانہ بن گیا اور جس نے اس عالم کو نہیں دیکھا اسے دنیا کی کچھ خبر ہی نہیں۔ید باران فضل رحمان آمد مقدم اوا قسمت آنکه ازدے سوئے دگر دویده رحمان کے فضل کے بارش ایسے شخص کی پیشوائی کو آتی ہے بد قسمت وہ ہے جو اسے چھوڑ کر دوسری طرف بھاگا۔اے کان دلربائی دانم که از کجائی تو نور آں خدائی میں خلق آفریده اے کان حسن میں جانتا ہوں کہ تو کس سے تعلق رکھتی ہے۔تو اس خدا کا نور ہے جس نے یہ مخلوقات پیدا کی۔میلم نماند باکس محبوب من توئی بس زیرا که زان فغاں رس نورت بما رسیده مجھے کسی سے تعلق نہ رہا اب تو ہی میرا محبوب ہے کیونکہ اس خدائے فریاد رس کی طرف سے تیرا نور ہم کو پہنچا ہے۔(براہین احمدیہ حصہ سوم حاشیہ صفحہ ۲۷۴۔۔مطبوعہ ۶۱۸۸۲)