بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 215
کتاب الاسلام 215 ۹۸۸ وجہ تعیین نماز مغرب تیسرا تغیر تمہاری حالت میں اس وقت ہوتا ہے جب مصیبت سے رہائی پانے کی اسید بالکل منقطع ہو جاتی ہے۔فرد قرار داو جرم تمہارے نام لگ جاتی ثبوت سے گورا تمھاری سزا کے لیے شنا دیئے جاتے اور جرم ثابت ہو جاتا ہے اُس وقت تمہاری حالت بہت بیزاری کی ہوتی ہے ، اوسان خطا ہو جاتے ہیں، تم اپنے کو قیدی سمجھنے لگتے ہو یہ حالت اُسوقت سے مشابہ ہے جبکہ آفتاب غروب ہو جاتا ہے، دن کی روشنی کی تمام ہوستاک اُمیدیں ختم ہو جاتی اور سزا کی تاریکی چھا بہانے کا یقین ہو جاتا ہے۔اس روحانی عمالت کے مقابل نماز مغرب مقرر ہوئی ہے، تاکہ اس طول امل کا معالجہ ہو اور رہائی کی کوئی سبیل ممکن ہو سکے وجد لعین نماز عشا چوتھا غیر تیر اسوقت آتا ہے جبکہ مصیبت تیر دار رہی ہو جاتی ہے اور بلا کی تاریکی تی احاطہ کر ہی لیتی ہے فرد قرار دارد او جرم اور بشوئی شہادتوں کے سزا کا حکم تم کو سنا دیا جاتا ہے اور قید کے لیے ایک پولیس مین کے تم حوالے کر دیئے جاتے ہو ا جیل بھیجے کے لیے تم روانہ کردیئے جاتے ہو۔بہرحالت اس وقت سے مشابہ ہو جبکہ رات کی تاریخی یہ آجاتی ہے، ہر طرف اندھیرا چھا جاتا ہے، انسان چاروں طرف سے مصیبت میں گھر جاتا ہے، اس روحانی حالت کے مقابلہ پہ ناز عشا مقرر ہوئی ہے تاک ساعت وعبادت کی برکت سے ان بلیات و مصائب سے رہانی ملنے کی اُمید میہ سکے ، رات اور تاریکیوں کو مصائبکے ساتھ اور دن اور روشنیوں کو آرام پنجات کیتا ایک قدرتی مناسبت ہو وجه تعیین نمازا مجبر ان تغیر تغیر اس وقت آتا ہے جب تم ایک مدت کی قید کے بعد نیک چلنی کی رہائی مجرا کرکے قبیل سے خلاص ہوتے ہو اور پھر اطمینان کے ساتھ خوشی و مسرت سے ہمکنار ہوتے ہو اس حالت کو اسوقت سے مشابہ کہا جا سکتا ہے کہ مدت تک انسان مصیبت کی تاریکی میں بسر کر کے رات گزارتا ہے اور بالآخر خدا تعالی کو آسپر رحم آجاتا ہے تاریخی ہو نجات ملتی ہے اور صبح نکل آتی ہے اور پھر وہی روشنی اپنی صلی چیک کی یا ظاہر ہوتی ہے اس حالت روحانی کے مقابل فجر کی نماز مقررہ ولی ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کے