بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 214
" 214 ۶۸۷ کتاب الاسلام کہ اس وقت میرا عمل آسمان کی طرف صعود کرے۔اس کے علاوہ اسوقت کے تغیر کا یہی مقتضا ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف رجوع کیا جائے چنانچہ اس تغیر کے آثار جو اس وقت جسم انسانی پر ظاہر ہوتے ہیں طبیبوں نے اپنی کتابوں بیان کئے ہیں مفرح القلوب شرح قانونچہ میں لکھا ہے کہ نوم بعد زوال که مسمی است قیلوله لكونه حاملا بین النهم الصلوة محدثه نسیان است یعنی دوپہر کے بعد سونا جبکہ تیل یہ کہتے ہیں نسیان کا مرض پیدا کرتا ہے اور اس خیار کو جیلولہ اس لیے کہتے ہیں کہ سونے والے اور نماز کے درمیان حائل ہوتی ہے۔لہذا اس تغیر سے بچنے کے لیے بھی بجائے سونے کے طاعت الہی میں مشغول رہنا مصلحت سے خالی نہیں ہے۔وجہ تعیین نماز عصر • تمہاری حالت میں ایک اضطرابی تغیر کو اسوقت ہوتا ہے جب وارنٹ جاری ہونیکی تمکو اطلاع ملتی ہو وہ توگی بازوال آفتایکا وقت ہے۔دوسرا تغیر تمہاری حالت میں اُسوقت ہوتا ہے جب مصیبت قریب الوقوع ہوتی ہے اور تم بذریعہ وارنٹ گرفتیا یہ ہو کر حاکم کے سامنے پیش کر دیئے جاتے ہیں اسوقت خوف کی وجہ سے تمہارا خون خشک اور نسلی اطمینان کا ہو نور تمہاری صورت سے رخصت ہونے لگتا ہے اس حالت کو اُسوقت تشبیہ دی جا سکتی ہے جبلہ آفتاب کا نور کم ہوتا ہے، اس پر نظر ہم سکتی ہے اور آفتاب نظر آنے لگتا ہے اور یہ خیال ہوتا ہے کہ آفتاب اب قریب غروب ہے۔اس سے انسان کو اپنے کمالات کے زوال قریب پر استدلال کرنا چاہئیے۔اس روحانی منطر اب کے مقابل نماز عصر مقررہوئی ہے تاکہ اس زوال کے مالک کی طرف دل سے توجہ کیا ہے اور رحمت خداوندی کی طلب صادق ہو سکے۔اس کے علاوہ اس وقت کی غفلت کا کوئی تدارک نہیں۔اس وقت کی غفلت جسمانیت پر بہت ہی بڑا اثر ڈالتی ہے حکیم محمد رزانی لکھتے ہیں کہ نوم آخر روز کہ مسمی است به فیلوله باعث آفات کثیره است به ہلاکت میں گناہ یعنی عصر کے وقت کی نیند جسکو عربی میں قیلولہ کہتے ہیں بہت بیماریاں پیدا کرتی ہے اور اکثر اس وقت کی نیند سے انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔لہندا اس کا یہی مقتضا ہے کہ بجائے خواب غفلت کے انسان عبادت الہی میں اس وقت مشغول ہو۔