بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 152 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 152

152 غرض اسی طرح پر کئی مقدس لوگوں کی ملاقاتیں ہوئیں جن کا ذکر کرنا موجب تطویل ہے" مغالطہ انگیزی کی حد یہ ہے کہ اس عبارت کا ماخذ حضرت ابن عربی کی کتاب فتوحات مکیہ بتلایا گیا ہے۔حالانکہ حضرت ابن عربی کی کسی کتاب میں اس واقعہ کا کوئی نام و نشان تک نہیں مل سکتا۔کیا یہ بیسویں صدی کا عبرتناک المیہ نہیں کہ کچھ تصرف کے ساتھ ) الفاظ تو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے نقل کئے جاتے ہیں مگر انہیں نہایت دیدہ دلیری کے ساتھ شیخ الاکبر حضرت ابن عربی کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے۔اس انداز تحقیق" کی ہمیں فاضل مولف سے ہرگز توقع نہ تھی کیونکہ وہ سیرت النبی عمل کے نہایت مبارک اور مقدس علمی جہاد میں مصروف عمل تھے اور انہیں اور ذاتی طور پر یہ تجربہ بھی حاصل ہو چکا تھا کہ اہل قلم کی تحقیقی کاوشیں جب دوسروں کی چیرہ دستیوں کا شکار ہوتی ہیں تو ان پر کیا قیامت گزرتی اور کیا حشر برپا ہوتا ہے؟ چنانچہ فاضل مولف اپنی اسی کتاب کے آخر میں ادبی سرقہ (PLAGIRISM) کے خلاف زبر دست احتجاج کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:۔"اندھیر" صدر پاکستان نے سیرت النبی کے کتابی مقابلہ میں گجراتی زبانی کی ایک کتاب "حیات النبی" کے مولف کو جنوبی ۱۹۸۲ء میں نقد انعام اور ایوارڈ دیا ہے۔حالانکہ اس کے مولف ادبی سرقہ کے مرتکب ہوئے ہیں۔انہوں نے کتاب "حیات النبی" کے لئے تمام مواد اور دلائل میری کتاب ”سیرت النبی بعد از وصال سے حاصل کئے ہیں۔ستم بالائے ستم یہ کہ ان کو ٹی وی کے ذریعے شہرت دے کر قومی ہیرو بنانے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔et + گذشته ۲۳ برس سے میں سیرت النبی کے اس خاص پہلو پر تحقیقی کام کر رہا ہوں۔۲ نومبر ۱۹۷۶ء کو میں نے سیرت النبی کے عالمی مقابلے کے لئے اپنی مذکورہ بالا