بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 151
151 روزوں کا اہتمام کیا۔اس اثناء میں عجیب عجیب مکاشفات مجھ پر کھلے۔بعض گذشتہ نبیوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ایک مرتبہ عالم بیداری میں حضرت بانی اسلام علیہ الوف الصلوۃ والسلام کو مع حضرت علی و حضرت حسین و حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے دیکھا۔غرض بزرگوں سے ملاقاتوں کا یہ سلسلہ بہت طویل ہے۔"۔(کتاب " زیارت نبی ملی ام بحالت بیداری" صفحه ۱۲۷ ناشر مرحبا پیلی کیشنز امرت دھارا بلڈنگ لاہور) صلی و ایک محقق و فاضل کی روح یقیناً یہ تصور کر کے تڑپ اٹھے گی کہ زیارت نبی کا یہ روح پرور واقعہ جو خاتم الاولیاء حضرت ابن عربی " کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہ دراصل حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا ہے۔چنانچہ آپ اپنی لاجواب تصنیف "کتاب البریہ" کے حاشیہ صفحہ ۱۹۷۔۱۹۸ میں لکھتے ہیں۔ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمر پاک صورت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا اور اس نے یہ ذکر کر کے کہ کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سنت خاندان نبوت ہے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں اس سنت اہل بیت رسالت کو بجالاؤں۔سو میں نے کچھ مدت تک التزام صوم کو مناسب سمجھا مگر ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ اس امر کو مخفی طور پر بجالانا بہتر ہے۔۔۔۔۔۔اس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربہ میں آئے وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اس زمانہ میں میرے پر کھلے۔چنانچہ بعض گذشتہ نبیوں کی ملاقاتیں ہوئیں اور جو اعلیٰ طبقہ کے اولیا اس امت میں گذر چکے ہیں ان سے ملاقات ہوئی۔ایک دفعہ عین بیداری کی حالت میں جناب رسول اللہ مالی علیه السلام کو معمہ حسنین و علی و فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دیکھا اور یہ خواب نہ تھی بلکہ ایک بیداری کی قسم تھی۔۔