بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 153 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 153

153 کتاب کا مسودہ سیکرٹری جنرل رابطہ عالم اسلام ، ۲ مکرمہ کو روانہ کیا تھا۔میں نے حکومت کو متعدد خطوط لکھنے تاکہ اس اند میر" کی تحقیق کرائی جائے مگر کچھ نہ ہوا۔اس آزاد اسلامی مملکت میں نہ معلوم کب تک یوں انصاف کا خون ہوتا رہے گا۔قوم کب تک بندربانٹ کا شکار رہے گی۔کب تک حامد کی ٹوپی محمود کے سر کی زینت بنائی جاتی رہے گی اور کب تک اندھا اپنوں کو ریوڑیاں بانٹتا رہے گا؟" I, نضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے علم کلام کی برتری کا پر اسرار طریق پر اعتراف حضرت بابا فرید الدین گنج شکر (وفات ۵۶۲۴) صاحب کرامات بزرگ تھے۔آپ کا مزار پاکپتن شریف میں ہے۔جہاں ہر سال ۵ محرم کو بڑی دھوم دھام اور تزک و احتشام سے آپ کا عرس منایا جاتا ہے۔جولائی ۱۹۸۷ء میں پاکپتن شریف کے مشہور فریدی کتب خانہ نے حضرت گنج شکر کی ایک سوانح عمری "مقام فرید " شائع کی جو " قلم حقیقت رقم صاحبزادہ حضرت علامہ محمد اقبال صدیقی کھرل " کا نتیجہ ہے۔کتاب کا آغاز انتساب سے کیا گیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:۔" انتساب میں کچھ کمی سی لگتی ہے جو بھی ذہن میں آتے ہیں القاب پیر طریقت رہبر شریعت شهباز طریقت امیر شریعت ، تاجدار تصوف، تاج الاولیاء، شهنشاه ولایت، جگر گوشه محدث اعظم پاکستان حضور خواجہ خاجگان حضرت صاحبزادہ غازی فضل احمد رضا صدر جامعہ رضویہ فیصل آباد جن کی نظر کرم نے خاک کو ثریا بنا دیا۔خاکپائے اولیاء اقبال صدیقی۔" (عکس ملاحظہ ہوں کتاب خدا کے صفحات 228 تا 232 پر ) پر) 3