بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 15
15 ہمیں کچھ کہیں نہیں بھائیو نصیحت ہے غریبانہ کوئی جو پاک دل ہو وے دل و جاں اس پہ قرباں ہے ۲۔ابو الوفا ” مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری مدیر اہل حدیث امرتسر ولادت جون ۶۱۸۶۸ وفات ۱۵ مارچ ۱۹۴۸ء) آپ متحدہ ہندوستان میں اہلحدیث کے ممتاز عالم ، مصنف اور مناظر تھے۔آپ کے غالی عقید تمندوں نے آپ کو " فاتح اسلام" کا لقب آپ کی زندگی میں دیا (اہل حدیث ۱۱۔اگست ۱۹۴۴ء صفحہ (۵) اور بعد از وفات " آپ حجتہ الاسلام " اور "مسیحا" قرار دئے گئے۔(سیرت ثنائی صفحه ۴۱۴ از "مولانا" عبد المجید خادم سوہدروی) "مولانا" شاء الله صاحب نے ۴ جنوری ۱۹۲۴ء کو لاہور کے ایک جلسہ میں (10 164, 1812 تقریر کرتے ہوئے آخر میں فرایا۔نور واحد بوش 1 10، 16 اور سیاسی (کسر چونکہ میں قرآن مجید کو اپنا بلکہ جملہ انسانوں کا کامل ہدایت نامہ جانتا ہوں اس لئے اپنا اعتقاد دو شعروں میں ظاہر کر کے بعد سلام رخصت ہو تا ہوں۔جمال و حسن قرآن نور جان ہر مسلماں ہے ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے نظیر اس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھا بھلا کیوں کر نہ ہو یکتا کلام پاک رحماں ہے (فتاویٰ ثنائیہ جلد اول صفحہ ۸۶ - ناشر ادارہ ترجمان السنہ ۷۔ایک روڈ لاہور ) در جی بالا اشعار حضرت باقی مسلسل احمدیہ کے علم سے اس براین من به تصد و نود پر چھپے چکے