بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 14
14 ۲۔نظیر اس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھا بھالا کیونکر نہ ہو یکتا کلام پاک رحماں ہے۔بہار جاوداں پیدا ہے اس کی ہر عبارت میں نہ وہ خوبی چین میں ہے نہ اس سا کوئی بستاں ہے ۴ کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہر گز اگر لو لوئے عماں ہے وگر لعل بدخشاں ہے ۵۔خدا کے قول سے قول بشر کیونکر برابر ہو وہاں قدرت یہاں در ماندگی فرق نمایاں ہے۔ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرار لاعلمی سخن میں اس کے بتائی کہاں مقدور انساں ہے بنا سکتا نہیں ہرگز بشراک پاؤں کیڑے کا تو پھر کیونکر بنانا نور حق کا اس پہ آسماں ہے۔ارے لوگو! کرو کچھ پاس شان کبریائی کا زبان کو تھام لو اب بھی۔اگر کچھ ہوئے ایماں ہے۔خدا کے غیر کو ہمسر بنانا سخت کفران ہے خدا سے کچھ ڈرو یا روا یہ کیسا کذب و بہتاں ہے ۱۔اگر اقرار ہے تم کو خدا کی ذات واحد کا تو پھر کیوں اس قدر دل میں تمہارے شرک پنہاں ہے 11۔یہ کیسے پڑ گئے دل پر تمہارے جہل کے پر دے -2 خطا کرتے ہو باز آؤ اگر کچھ خوف یزداں ہے ( " اعجاز قرآن » صفحه ۱۰۴) جناب مولانا صاحب نے قارئین پر اپنی جودت طبع کا سکہ جمانے کے لئے کمال ہوشیاری کے ساتھ حضور کی نظم کے ترتیب وار گیارہ اشعار نقل کئے ہیں جن میں سے شعر نمبر ۹۴۲‘ کے ابتدائی مصرعوں میں مندرجہ ذیل تصرفات سے کام لیا ہے:۔تصرف شده مصرعه اصل مصرعه شعر ۲۔نظر اس کی نہیں ملتی بہت کچھ غور کر دیکھا نظیر اس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھا شعر ۴۔کلام پاک یزداں کا نہیں ثانی کوئی ہرگز کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز شعر ۷۔بنا سکتا نہیں ہرگز بشراک پاؤں کپڑے کا بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز شعر ۹۔خدا کا غیر کو ہمسر بنانا سخت کفراں ہے خدا سے غیر کو ہمتا بنانا سخت کفراں ہے فاضل مولف نے اس پر معارف نظم کے آخری اور بارھویں شعر کے نقل کرنے سے گریز کیا ہے۔شاید ان کی طبع نازک پر گراں ہو۔وہ شعر یہ ہے:۔