بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 13
13 میں جو اس کے حسن سے باخبر ہوں اس پر اپنی جان قربان کرتا ہوں جبکہ دوسرا صرف دل دیتا ہے۔ہے۔اس کی یاد مجھے بے خود بنا دیتی ہے۔وہ ہر وقت مجھے ایک ساغر سے مست رکھتا اس کے پاک نفس پر ہر کمال ختم ہو گیا اس لئے اس پر پیغمبروں کا خاتمہ ہو گیا۔ان تمہیدی کلمات کے بعد ان شخصیات کا تذکرہ کیا جاتا ہے جنہوں نے بانی سلسلہ احمدیہ کے کلام منظوم سے استفادہ فرمایا ہے:۔ا۔” مولانا حافظ عطاء اللہ صاحب بریلوی خادم قرآن تعلیم یافته دارالعلوم دیوبند و سهارنپور مولانا حافظ عطاء اللہ صاحب نے اعجاز قرآن" کے نام سے ایک مبسوط رسالہ رقم فرمایا جو ۱۹۳۷ء میں ہندوستانی کتب خانہ اردو بازار جامع مسجد دہلی نے شائع کیا۔رسالہ کے سرورق پر نہایت جلی قلم سے یہ سے یہ الفاظ درج ہیں۔" اس رسالہ میں بحمدہ تعالٰی دہریت ، آریت ، عیسائیت ، بہائیت اور قادیانیت کے خیالی قلعوں کو اعجاز قرآن کی تین اقسام سے بم باری کر کے بکلی مسمار کر دیا گیا ہے" مولانا نے قادیانیت کے خیالی قلعے " پر بم باری کے لئے یہ دلچسپ طریق اختیار کیا کہ رسالہ کے صفحہ ۱۰۴ پر در مدح "قرآن" کے زیر عنوان حسب ذیل نظم شائع فرمائی ہے جو ۱۸۸۲ء میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ ہی کے قلم مبارک سے نکلی اور براہین احمدیہ حصہ سوم کے صفحہ ۱۸۲ پر شائع ہو چکی تھی۔عدس در مدح قرآن کریم (مواد موسم 1 160 کو انام - جمال و حسن قرآن نور جان ہر مسلماں ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے