بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 139
139 "اے مسلمان جب تو کسی مرزائی سے ملتا ہے تو گنبد خضرا میں دل مصطفی میں رکھتا ہے۔" میں یہ پوچھنے کی جسارت کروں گا کہ جب تمہارا حکیم و مجدد تھانوی قادیانی کی کتاب کے صفحے در صفحے چوری کر رہا ہو گا تو اس وقت پیارے مصطفی میں ایک ایک وکیل کے دل پر کیا گزر رہی ہو گی۔کیا وہ خوش ہو رہے ہوں گے۔اگر نہیں تو اس پر تمہاری زبانیں کیوں گنگ ہیں؟ لیکن یہ توقع دیوبندی مکتب فکر سے کرنا بہر حال فضول ہے اس لئے کہ یہ لوگ اسلام کو شخصیات کے پیمانے کے ساتھ ماپتے ہیں۔جو بات اس پیمانہ پر پوری اترے اس کو حق جانتے ہیں اور جو بات اس پیمانے سے ہٹ کر ہو اس کو مسترد کر دیتے ہیں وہ بات چاہے کتنے ہی دلائل و براہین سے کیوں نہ ہو۔پھر اپنے نام نہاد اکابرین کو ناپنے کے لئے ان کے پیمانے بہت بڑے ہیں اور حضور نبی اکرم میلی لی اور آپ کے غلاموں کی عظمت کو ناپنے کے لئے چھوٹے پیمانے استعمال کرتے ہیں۔خرد کا نام جنوں اور جنوں کا نام خرد رکھ دیا جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے! اگر تھانوی صاحب کے عقیدت مندوں نے ضد اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر بنظر انصاف اس تحریر کا مطالعہ کیا تو وہ بے ساختہ پکار اٹھیں گے کہ۔ع جنين زہیر جنہیں سمجھتے تھے رهزن نکلے لیکن انہوں نے تو بہر حال ہٹ دھرمی سے کام لینا ہے اور یقیناً باطل تاویلات کے بل بوتے پر قسم قسم کی بولیاں بولیں گے کیونکہ ان کا وطیرہ یہ ہے کہ۔