بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 133 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 133

133 نے دعا کی اور جس کے لفظ لفظ سے علم و معرفت کے سمندر موجیں مار رہے ہیں۔یہی وہ پر معارف کتاب ہے جس کے انوار و برکات کی چمکار کو دیکھ کر مخالفین احمدیت کی نگاہیں بھی حیرت زدہ ہو گئی ہیں اور جناب مولانا اشرف علی صاحب تھانوی جیسے دیو بندی عالم اور نام نہاد "مجلس تحفظ ختم نبوت" کے حکیم الامت" اور "مجدد ملت" نے تو اس سے بھر پور استفادہ کر کے اس کے اقتباسات اپنے نام پر شائع فرمائے ہیں۔جیسا کہ گذشتہ سطور کی تفصیلات سے پوری طرح عیاں ہے۔یہ حیرت انگیز انکشاف را قم الحروف نے آج سے تیرہ سال قبل اخبار "الفضل " ربوہ مورخہ ۷۵ مئی ۱۹۸۳ء کے ذریعہ کیا جس پر پاکستان کے ایک نامور اور صاحب طرز ادیب جناب جمیل احمد عدیل نے اپنے مراسلہ ۲۳ جولائی ۱۹۸۳ء میں اس رائے کا اظہار کیا کہ :- " ce ۵ اور ے مئی ۱۹۸۳ء کے "الفضل " میں آپ کی تحقیق بے نظیر دیکھنے کا موقع ملا جو یقیناً چونکا دینے والی بات تھی اور ایک بہت فاضل آدمی کی علمیت کا پول کھولنے کے لئے کافی تھی۔۔۔۔۔۔آپ کی اس مایہ ناز تحریر سے۔۔۔۔۔۔دیوبندی مکتبہ فکر میں زلزلہ آ گیا ہے۔ازاں بعد پاکستان کے ایک ممتاز بریلوی عالم دین جناب محمد افضل شاہد صاحب نے ایک تنقیدی مقالہ " تھانوی قادیانی کی دہلیز پر " کے زیر عنوان سپرد قلم کیا جو ماہنامہ "القول السدید " لاہور کی متعدد اقساط میں شائع ہوا۔فاضل مقالہ نگار نے حضرت مسیح موعود کی عبارات اور تھانوی صاحب کی تحریرات کا نہایت شرح و بسط سے تقابلی جائزہ لیا۔ذیل میں بطور نمونہ اس کا صرف وہ حصہ ہدیہ قارئین کیا جاتا ہے جس کا تعلق لیکچر اسلامی اصول کی فلاسفی" کے ساتھ ہے۔جناب محمد افضل شاہد صاحب رقمطراز ہیں :۔اسلام میں تو مجددا سے کہا جاتا ہے جو تجدید احیائے دین کا کام کرے اور دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ممکنہ حد تک وہ صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے اپنے آپ کو بچا کر رکھے۔چونکہ امام