بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 134 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 134

: 134 اہل سنت میں یہ شرائط بطریق احسن موجود ہیں اس لئے مجددمان لئے گئے۔لیکن شاید گستاخان رسول کے نزدیک مجدد اس کو کہتے ہوں جو اہانت رسول کی چلائی جانے والی تحریک کی تجدید کرے اور چوری جیسے بدترین فعل میں مہارت رکھتا ہو۔تو یہ کام تو تھانوی صاحب نے "حفظ الایمان" لکھ کر اور قادیانی کی کتب سے صفحے کے صفحے نقل کر کے انتہائی خوبی سے سرانجام دیا ہے۔اس لئے ان کا دعوئی بجا ہے۔باقی رہا ھزار سے زیادہ تصانیف والا مسئلہ تو جھوٹ ان کو گھٹی میں پڑا ہے اور یہ لوگ اس مقولے پر سختی سے کاربند ہیں کہ ”جھوٹ اتنی کثرت سے بولو کہ سچ کا گمان ہونے لگے۔" اول تو یہ متضاد دعوے کر رہے ہیں۔ابتداء تو ہزار کتب کا دعوی تھا اور اب اکابر علمائے دیو بند " میں ڈیڑھ ہزار سے زائد کا دعوی کیا گیا ہے۔یہاں مجھے ایک لطیفہ یاد آ رہا ہے کہ چند دوست ہر روز اکٹھے بیٹھ کر زبانی زبانی حلوہ پکاتے۔کوئی کہتا پاؤ پاؤ جنس ہو کوئی کہتا آدھا آدھا کلو۔آخر ایک خاموش دوست نے ایک دن تنگ آکر کہا نہیں من من جنس ہونی چاہئے۔جب زبانی زبانی ہی پکانا ہے تو تھوڑا کیوں پکاتے ہو۔تھانوی کے چیلوں نے بھی سوچا کہ جب زبانی کلامی ہی دعویٰ کرنا ہے تو بلند و بانگ دعوئی کیوں نہ کیا جائے۔بہر حال اگر چہ تھانویت اور نجدیت پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے مگر یہاں صرف تھانوی صاحب کی ان عبارتوں کو سامنے لانا مقصود ہے جو انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب سے چوری کر کے اپنی کتاب میں نقل کیا۔۱۸۹۶ء میں ایک ہندو سوامی شوگنا چندر نے "جلسه اعظم مذاہب" کے نام سے لاہور ٹاؤن ہال میں کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں تمام مذاہب کے رہنماؤں کو دعوت دی گئی۔ہر ایک کو پانچ پانچ سوالات